ہندوستان

علاقائی جنگ اور آبنائے ہرمز میں خلل نے ہندوستانی معیشت کو شدید دباؤ سے دوچار کر دیا

علاقائی جنگ اور آبنائے ہرمز میں خلل نے ہندوستانی معیشت کو شدید دباؤ سے دوچار کر دیا

توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور تیل و گیس کی ترسیل کے راستوں میں رکاوٹ نے ہندوستانی معیشت پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے، جس کے نتیجے میں صنعت، نقل و حمل اور تعمیرات جیسے اہم شعبے پیداوار میں کمی اور بڑھتی ہوئی لاگت کا سامنا کر رہے ہیں۔

اس سلسلے میں آپ کی توجہ ہمارے نمائندے کی رپورٹ کی جانب مبذول کراتے ہیں:

بین الاقوامی اقتصادی رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کشیدگی اور اس کے علاقائی اثرات، خصوصاً آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے ہندوستانی معیشت کو شدید جھٹکا پہنچایا ہے۔

الجزیرہ نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ہندوستان میں مختلف صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے اور منافع کا دائرہ کم ہو گیا ہے۔

فائننشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کا فضائی نقل و حمل کا شعبہ ان اولین شعبوں میں شامل ہے جو اس بحران سے متاثر ہوئے ہیں،
اور ملکی ایئرلائن کمپنیوں کو اپنی بعض پروازیں کم کرنا پڑی ہیں۔

فائننشل ٹائمز نے مزید بتایا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے فضائی کمپنیوں پر براہِ راست دباؤ بڑھا دیا ہے،
اور آئندہ مہینوں میں اس صورتحال کے مزید سنگین ہونے کا امکان ہے۔

توانائی کے شعبے میں بھی ہندوستانی کمپنیوں نے مائع گیس اور صنعتی ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

اس اضافی لاگت کے نتیجے میں اشیاء اور خدمات کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں،
خصوصاً ریسٹورنٹس، ہوٹلوں اور چھوٹی صنعتوں کے شعبوں میں۔

اسی طرح گیس پر انحصار کرنے والی صنعتیں، جیسے شیشہ، سیرامک اور سیمنٹ کی صنعت، پیداوار میں کمی اور بعض صورتوں میں ملازمین کی برطرفیوں کا سامنا کر رہی ہیں۔

تعمیراتی شعبے میں بھی “بٹومن” نامی مادے کی قلت کی اطلاعات ہیں، جس کا ایک بڑا حصہ ہندوستان مشرقِ وسطیٰ سے درآمد کرتا ہے، اور اس کی درآمد میں کمی کے باعث ترقیاتی منصوبے متاثر ہو رہے ہیں۔

رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں توانائی اور خام مال کی درآمدات اب زیادہ لاگت پر ہو رہی ہیں، جس کے باعث ملکی معیشت میں مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے بھی اس سے قبل ہندوستان سمیت ابھرتی ہوئی معیشتوں کی اقتصادی ترقی میں کمی کے خدشات ظاہر کرتے ہوئے ترقی کی شرح کو سابقہ اندازوں سے کم قرار دیا تھا۔

مجموعی طور پر جاری شدہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ علاقائی کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے نتیجے میں ہندوستان بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، صنعتی سرگرمیوں میں کمی اور مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، اور اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو اس کے براہِ راست اثرات اقتصادی ترقی اور عوامی معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button