ترکی سے تقریباً پندرہ لاکھ شامی مہاجرین کی اپنے وطن واپسی؛ حالیہ برسوں میں تدریجی اور رضاکارانہ عمل جاری
ترکی سے تقریباً پندرہ لاکھ شامی مہاجرین کی اپنے وطن واپسی؛ حالیہ برسوں میں تدریجی اور رضاکارانہ عمل جاری
خطہ میں شامی مہاجرین کی صورتحال سے متعلق پیش رفت کے دوران، گزشتہ چند برسوں میں ترکی سے بڑی تعداد میں شامی پناہ گزینوں کی اپنے وطن واپسی میں اضافہ ہوا ہے، جو ایک اہم انسانی اور سماجی موضوع بن چکا ہے۔
یہ واپسی زیادہ تر رضاکارانہ طور پر اور محفوظ واپسی کے منصوبہ کے تحت انجام دی گئی ہے۔
مڈل ایسٹ نیوز کی رپورٹ کے مطابق، ترک حکام نے اعلان کیا ہے کہ سنہ 2016 سے اب تک 14 لاکھ سے زائد شامی مہاجرین ترکی سے واپس اپنے ملک لوٹ چکے ہیں۔
یہ عمل گزشتہ برسوں میں انتظامی و سکیورٹی تعاون اور سرحدی سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ مسلسل جاری ہے۔
اسی رپورٹ کے مطابق، بعض علاقوں میں مہاجرین کی واپسی کا مقصد شام کے اندر معمولاتِ زندگی کی تدریجی بحالی اور میزبان ممالک پر بڑھتے ہوئے دباؤ میں کمی لانا بھی ہے۔
امورِ ہجرت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو مستقبل میں اس کے سرحدی علاقوں کی آبادی اور معاشی صورتحال پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔




