اگر لڑکی باپ کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو گناہ کیا ہے، لیکن نکاح باطل نہیں: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی
اگر لڑکی باپ کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو گناہ کیا ہے، لیکن نکاح باطل نہیں: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی
مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی دام ظلہ کا روزانہ علمی نشست، بروز پیر 16 ذی القعدہ 1447ھ کو منعقد ہوا۔
اس نشست میں بھی سابقہ نشستوں کی طرح، آپ نے حاضرین کے مختلف فقہی سوالات کے جوابات دیے۔
آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے لڑکی کے نکاح میں جبر و اکراہ کے حوالے سے فرمایا: اگر لڑکی کا نکاح جبر اور زبردستی کیا جائے تو اس کے باطل ہونے پر فقہاء کا اجماع ہے۔ یعنی نکاح کی صحت کے لئے لڑکی کی رضا مندی شرط ہے، اور اگر اس کی عدم رضامندی ظاہر ہو جائے تو نکاح صحیح نہیں ہوگا۔
اسی طرح، اس لڑکی کے بارے میں جو باپ کی اجازت کے بغیر نکاح کرے، آپ نے فرمایا: میری نظر میں، اگر کوئی لڑکی اپنے والد کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو وہ فعلِ حرام کی مرتکب ہوتی ہے، لیکن اس کا نکاح باطل نہیں ہوتا۔




