سعودی عرب

سعودی عرب میں سرکاری اعداد و شمار اور عوامی معیشت کی حقیقت کے درمیان خلیج

نمائشی منصوبوں اور بے روزگاری کے بحران پر وسیع تنقید

سعودی عرب کی اقتصادی صورتِ حال پر بڑھتی ہوئی تنقیدیں ظاہر کرتی ہیں کہ سرکاری اعداد و شمار اور عوام کی حقیقی زندگی کے حالات کے درمیان فاصلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

اسی سلسلے میں بعض تجزیے معاشی دباؤ میں اضافے اور بڑے منصوبوں کی ناکامی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

میرے ساتھی نے اپنی رپورٹ میں اس موضوع کا جائزہ لیا ہے جسے ہم ساتھ دیکھتے ہیں:

اس وقت جبکہ سعودی حکام “ویژن 2030” پروگرام کے تحت اقتصادی اشاریوں میں بہتری کی بات کر رہے ہیں،
کچھ ناقد آوازیں سرکاری اعداد و شمار اور شہریوں کی حقیقی زندگی کے حالات کے درمیان گہرے فرق کی خبر دے رہی ہیں۔

یہ تنقیدیں خاص طور پر بے روزگاری، اخراجاتِ زندگی اور بڑے منصوبوں کے نفاذ کے طریقۂ کار پر مرکوز ہیں۔

سوشل میڈیا اور آن لائن ذرائع،
بشمول یوٹیوب چینلز پر شائع ہونے والی ویڈیوز کے مطابق بعض تجزیہ کار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بے روزگاری کی حقیقی شرح اعلان کردہ اعداد سے زیادہ ہے،
اور بہت سے شہری ممکنہ نتائج کے خوف سے اپنے معاشی مسائل بیان کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

اس پہلو کو اقتصادی حقائق کے پوشیدہ رہنے کی ایک اہم وجہ قرار دیا گیا ہے۔

اسی طرح بعض پروگراموں میں، جو “اذاعة 98” جیسے ذرائع ابلاغ سے نشر ہوئے ہیں، اقتصادی اعداد و شمار پیش کرنے کے طریقۂ کار پر تنقید کی گئی ہے۔

ان ذرائع میں کہا گیا ہے کہ ان اعداد کا ایک بڑا حصہ حساب کے طریقوں میں تبدیلی کا نتیجہ ہے، نہ کہ حقیقی اقتصادی ترقی کا۔

یہ نقطۂ نظر اس بات پر زور دیتا ہے کہ ان شماریاتی تبدیلیوں کا عوام کی زندگی کے معیار پر کوئی نمایاں اثر نہیں پڑا۔

دوسری جانب “نیوم”، “لاین” اور “القدیہ” جیسے بڑے منصوبے بھی تنقید کی زد میں آئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق غیر ملکی افرادی قوت پر حد سے زیادہ انحصار، تقرریوں میں شفافیت کی کمی اور میرٹ کی عدم پاسداری ان منصوبوں کے نفاذ میں اہم چیلنجز شمار ہوتے ہیں۔

اسی کے ساتھ “سعودائزیشن” کا نعرہ بھی عملی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا، اور پیدا ہونے والی ملازمتوں کو نہ تو پائیدار سمجھا جا رہا ہے اور نہ ہی وہ معاشرے کی حقیقی ضروریات کے مطابق ہیں۔

مزید برآں بعض تجزیات میں سرکاری اخراجات میں اضافے، تیل کی آمدنی میں کمی اور عوامی قرضوں میں اضافے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اقتصادی ڈھانچے کی کمزوری کا ذکر کیا گیا ہے،
اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ تیل پر زیادہ انحصار عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کے مقابلے میں مالی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

ایسے حالات میں ٹیکسوں اور اخراجاتِ زندگی میں اضافے نے شہریوں پر براہِ راست دباؤ ڈالا ہے اور مستقبل کی معاشی صورتِ حال کے بارے میں خدشات کو بڑھا دیا

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button