جنوبی لبنان میں فضائی حملوں کا سلسلہ تیز، صیدا کے سرحدی علاقوں میں وسیع پیمانے پر تباہی

جنوبی لبنان میں گذشتہ چند روز کے دوران فضائی حملوں کی شدت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور بیک وقت سرحدی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی وسیع تباہی کے ساتھ ساتھ ضلع صیدا میں شہریوں کی نقل مکانی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
میرے ساتھی کی رپورٹ میں اس موضوع کا جائزہ لیا ہے، جسے ہم مل کر دیکھتے ہیں:
جنوبی لبنان سے آنے والی اطلاعات کے مطابق اس ملک کے سرحدی علاقوں میں فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور شہری و دیہی بنیادی ڈھانچے کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔
ان علاقوں سے شائع ہونے والی فضائی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ حملوں کے نتیجے میں شہروں اور دیہاتوں کے بڑے حصے شدید تباہی سے دوچار ہوئے ہیں۔
مڈل ایسٹ نیوز کے مطابق ان تصاویر میں بخوبی دیکھا جا سکتا ہے کہ رہائشی اور عوامی عمارتوں کو کس قدر بھاری نقصان پہنچا ہے۔
بیک وقت اسی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق صیدا شہر کے اطراف میں بھی شدید فضائی حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں اور «الداودیہ»، «الغسانیہ» اور «السکسکیہ» کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ان حملوں کے سبب مقامی باشندوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ ان علاقوں کی فضاؤں میں جاسوسی پروازوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔
اس صورتِ حال کے پیشِ نظر جنوبی لبنان میں نقل مکانی کی لہر روز بروز بڑھتی جا رہی ہے اور بے شمار خاندان اپنے مکانات کی تباہی اور عدم تحفظ کے باعث سرحدی علاقے چھوڑ کر جا چکے ہیں۔
مقامی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ کثیر تعداد میں بے گھر افراد نسبتاً محفوظ علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور امدادی مراکز و ہنگامی پناہ گاہوں پر بوجھ میں اضافہ ہو گیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ امدادی اداروں نے بنیادی سہولیات کی کمی کے بارے میں خبردار کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ پانی، بجلی اور مواصلاتی خدمات جیسے اہم بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان نے انسانی ضروریات کی تکمیل کو دشوار بنا دیا ہے۔
اسی دوران مقامی ذرائع نے لبنان کے جنوبی علاقوں کے باشندوں کی حملوں کے تسلسل کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کی خبر دی ہے اور بتایا ہے کہ ان علاقوں کی عمومی فضا حملوں کے اعادے کے خوف سے متاثر ہو چکی ہے۔
بعض رپورٹوں میں روزمرہ کی سرگرمیوں میں کمی اور متاثرہ علاقوں میں کاروبار کے جزوی طور پر بند ہونے کا بھی ذکر ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو حالیہ پیش رفت جنوبی لبنان میں فوجی کشیدگی کے تسلسل اور انسانی بحران کی شدت کو ظاہر کرتی ہے اور بظاہر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ صورتِ حال جاری رہنے کی صورت میں شہریوں اور اہم بنیادی ڈھانچے پر دباؤ پہلے سے بھی زیادہ بڑھتا جائے گا۔




