حالیہ جنگ کے بعد خلیجی ممالک میں تزویراتی خلیج میں اضافہ؛ سعودی عرب، امارات اور قطر کے مختلف راستے نمایاں
حالیہ جنگ کے بعد خلیجی ممالک میں تزویراتی خلیج میں اضافہ؛ سعودی عرب، امارات اور قطر کے مختلف راستے نمایاں
خطہ میں حالیہ جنگ کے اثرات نے خلیج فارس کے بعض ممالک کے درمیان پوشیدہ اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے اور ان کی علاقائی پالیسیوں میں بڑھتی ہوئی دوری کے آثار سامنے آئے ہیں۔
ویب سائٹ "اکسیوس” کے مطابق، اس جنگ نے متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور قطر کے درمیان تزویراتی خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہے اور خطے کے حالات کے حوالے سے ان کے مختلف طرزِ عمل کو واضح کر دیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امارات نے اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی تعاون اور ابراہیمی معاہدوں پر زیادہ انحصار بڑھا دیا ہے، جبکہ سعودی عرب ترکی اور پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب بڑھ رہا ہے۔
اسی طرح "اکسیوس” کے مطابق اوپیک سے امارات کا اخراج بھی سعودی عرب کے ساتھ بڑھتے اختلافات کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب قطر بھی جنگ کے دباؤ اور گیس برآمدات پر اس کے اثرات کے باعث معاشی اور سفارتی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات نے بعض سیاسی حلقوں میں خطہ کے مستقبل کے اتحاد اور ہم آہنگی کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے۔




