دنیامقالات و مضامین

یکم مئی؛ یومِ مزدور: عزت، محنت اور حقوقِ انسان

انسانی معاشرے کی بنیاد محنت، دیانت اور باہمی تعاون پر قائم ہے۔ قوموں کی ترقی کا راز نہ صرف وسائل میں پوشیدہ ہوتا ہے بلکہ ان ہاتھوں میں بھی ہوتا ہے جو دن رات مشقت کر کے ان وسائل کو کارآمد بناتے ہیں۔ یہی مزدور اور ملازم طبقہ ہے جو خاموشی سے تاریخ رقم کرتا ہے، مگر افسوس کہ تاریخ کے صفحات اس کے استحصال، محرومی اور بے بسی کی داستانوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ طاقتور طبقات نے اکثر اس کمزور مگر مخلص طبقے کو اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھایا، اس کی محنت کو نظر انداز کیا اور اس کے حقوق کو پامال کیا۔

یومِ مزدور اسی جدوجہد، قربانی اور بیداری کی علامت ہے۔ لیکن اگر ہم اسلامی نقطۂ نظر سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے چودہ سو سال قبل ہی وہ اصول وضع کر دیے تھے جن تک دنیا نے بڑی دیر سے رسائی حاصل کی۔

رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محنت کی عظمت کو نہ صرف الفاظ میں بیان فرمایا بلکہ اپنے عمل سے بھی واضح کیا۔ روایت میں ہے کہ آپؐ نے ایک محنت کش کے ہاتھوں کو چوم لیا۔ یہ محض ایک بوسہ نہیں بلکہ محنت کش طبقے کی عزت و تکریم کا ایک ابدی اعلان ہے۔

اہلِ بیت علیہم السلام کی سیرت بھی اس باب میں روشن اور رہنمائی سے بھرپور ہے۔ امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام، جو خود محنت اور عدل کا پیکر تھے، فرماتے ہیں: “کسی انسان کی قدر و قیمت اس کے عمل اور محنت سے پہچانی جاتی ہے۔” آپؑ خود کنویں کھودتے، کھیتوں میں کام کرتے اور اپنی محنت کی کمائی کو راہِ خدا میں صرف کرتے تھے۔ آپؑ نے حکمرانوں کو یہ درس دیا کہ رعایا کے ساتھ ایسا برتاؤ کرو جیسے ایک مہربان باپ اپنی اولاد کے ساتھ کرتا ہے، نہ کہ ایک ظالم آقا اپنے غلاموں کے ساتھ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: “مزدور کی مزدوری اس کے پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔” یہ حدیث نہ صرف بروقت ادائیگی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے بلکہ اس میں انسانی ہمدردی اور انصاف کا بھی درس ہے۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے روایت ہے کہ: “اللہ تعالیٰ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو حلال روزی کمانے کے لئے محنت کرتا ہے۔” یہ تعلیم اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ محنت کرنا نہ صرف معاشی ضرورت ہے بلکہ ایک عبادت بھی ہے، بشرطیکہ وہ حلال طریقے سے ہو۔

امام علی رضا علیہ السلام کا واقعہ، جس میں آپؑ نے بغیر اجرت طے کئے مزدور سے کام لینے پر ناراضگی کا اظہار فرمایا، اسلامی معاشرتی انصاف کی ایک روشن مثال ہے۔ آپؑ نے واضح کیا کہ مزدور کا حق پہلے طے ہونا چاہیے اور اس کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی روا نہیں رکھی جا سکتی۔

امام زین العابدین علیہ السلام کی سیرت بھی ہمیں مزدوروں اور خادموں کے ساتھ حُسنِ سلوک کی دعوت دیتی ہے۔ آپؑ اپنے خادموں کے ساتھ اس قدر محبت اور احترام سے پیش آتے کہ وہ خود کو غلام نہیں بلکہ خاندان کا حصہ محسوس کرتے تھے۔ عید کے دن غلاموں کو آزاد کرنا آپؑ کا معمول تھا، مگر اس انداز سے کہ ان کے دلوں میں جدائی کا غم آزادی کی خوشی پر غالب آ جاتا۔

اسلام نے مزدوروں اور ملازمین کے حقوق کو ایک مکمل نظام کی صورت میں پیش کیا ہے۔ ان میں چند اہم اصول یہ ہیں:

  1. مزدوری میں عدل و انصاف کو یقینی بنایا جائے تاکہ مزدور اپنی بنیادی ضروریات پوری کر سکے۔
  2. کام شروع کرنے سے پہلے اجرت طے کی جائے تاکہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔
  3. مزدوری کی ادائیگی میں تاخیر نہ کی جائے، بلکہ فوری طور پر ادا کی جائے۔
  4. مزدور کو اس کی طاقت سے زیادہ کام پر مجبور نہ کیا جائے۔
  5. غیر ارادی نقصانات کا بوجھ مزدور پر نہ ڈالا جائے۔
  6. مشکل حالات میں مزدور کا ساتھ دیا جائے اور اس کی فلاح کا خیال رکھا جائے۔
  7. کام کے دوران ہونے والے نقصان کی ذمہ داری مالک پر ہو۔
  8. مالک اور مزدور کے درمیان تعلق احترام، اخوت اور ہمدردی پر مبنی ہو، نہ کہ جبر اور تحقیر پر۔

آج کے دور میں جب سرمایہ داری نظام نے ایک بار پھر مزدور کو مشین کا پرزہ بنا دیا ہے، ان تعلیمات کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا ہم واقعی ان اصولوں پر عمل پیرا ہیں یا محض یومِ مزدور منا کر اپنی ذمہ داری پوری سمجھ لیتے ہیں؟

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر ہم ایک منصفانہ اور خوشحال معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات کو عملی زندگی میں اپنانا ہوگا۔ مزدور کو اس کا حق دینا، اس کی عزت کرنا اور اس کے ساتھ انصاف کرنا نہ صرف ایک سماجی فریضہ ہے بلکہ ایک دینی ذمہ داری بھی ہے۔

بارگاہِ الٰہی میں دعا ہے کہ وہ ہمیں عدل، انصاف اور انسانیت کے ان بہترین اصولوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں ہر قسم کے ظلم، استحصال اور ناانصافی سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button