
ایک بین الاقوامی معاشی میڈیا کی رپورٹ میں امارات کی جانب سے پاکستان سے اربوں ڈالر کے ذخائر کی فوری واپسی کے مطالبے کی کوشش کی خبر دی گئی ہے۔
ایسا اقدام جس نے اس ملک کی معیشت کو بحران کے دہانے پر پہنچا دیا، لیکن سعودی عرب کی فوری مداخلت اور نقد رقم کے انجیکشن سے یہ مالی دباؤ خنثی ہو گیا۔
میرے ساتھی نے اپنی رپورٹ میں اس موضوع کا جائزہ لیا ہے جسے ہم ساتھ دیکھتے ہیں:
متحدہ عرب امارات نے اچانک پاکستان سے اپنے 3.5 ارب ڈالر کے ذخائر واپس کرنے کا مطالبہ کیا۔
یہ رقم اس ملک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کا قابلِ توجہ حصہ ہے اور اسلام آباد کی مالیاتی استحکام کو شدید خطرے میں ڈال سکتی تھی۔
یہ رپورٹ مزید کہتی ہے کہ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا جب پاکستان ایران، امریکہ اور اسرائیل سے متعلق جنگی حالات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا تھا؛ ایسا موضوع جس نے تجزیہ کاروں کے مطابق ابوظہبی کی ناراضی کو جنم دیا ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔
فائننشیل ٹائمز زور دیتا ہے کہ اس مطالبے سے پیدا ہونے والا مالی دباؤ نہ صرف پاکستان کی کرنسی مارکیٹ بلکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے حمایتی پروگراموں کو بھی شدید خلل سے دوچار کر سکتا تھا۔ اسی تناظر میں سعودی عرب کا کردار اس بحران کو قابو کرنے میں نمایاں ہو گیا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق، ریاض نے 3 ارب ڈالر کا نیا قرض دے کر اور سابقہ 5 ارب ڈالر کے قرض میں توسیع کر کے عملاً پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کے بڑے پیمانے پر اخراج کو روک دیا اور اس معاشی دباؤ کو خنثی کر دیا۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان قریبی معاشی اور سیاسی تعلقات کے تسلسل میں سمجھا جاتا ہے۔
رپورٹ کے ایک اور حصے میں، تجزیہ کار چتم ہاؤس کے حوالے سے سمجھتے ہیں کہ یہ مالی کشیدگی صرف ایک معاشی اختلاف نہیں بلکہ خطے کے بعض ممالک کے درمیان جغرافیائی و سیاسی رقابتوں کی عکاسی ہے۔ اسی طرح بھارت کے ساتھ امارات کے بڑھتے ہوئے معاشی تعاون کے ساتھ ساتھ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات نے ان مساوات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
کچھ سفارتی ذرائع نے بھی اس رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امارات اسلام آباد سے ایران کے حوالے سے زیادہ سخت موقف کی توقع رکھتا تھا، لیکن پاکستانی حکام نے اس معاملے کو مالی اختلافات کے دائرے میں تعبیر کرنے کی کوشش کی ہے۔
یہ معاملہ ظاہر کرتا ہے کہ امارات اور سعودی عرب کے درمیان رقابت ظاہری تعاون کی سطح سے آگے بڑھ چکی ہے اور خطے میں طاقت اور اثر و رسوخ کے توازن کی ایک شکل اختیار کر چکی ہے۔ امارات مالیاتی آلات کے استعمال کے ذریعے خطے کی تبدیلیوں میں ایک زیادہ خودمختار کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے؛ اس کے مقابلے میں سعودی عرب بھی براہِ راست معاشی مداخلت اور مالی حمایت کے ذریعے خلیج فارس کے معادلات میں اپنی برتر حیثیت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس رقابت کا نتیجہ ایک ایسے کثیر سطحی ماحول کی صورت میں سامنے آیا ہے جہاں بیک وقت تعاون اور رقابت جاری ہے اور جس میں معاشی فیصلے تیزی سے سیاسی دباؤ یا حمایت کے اوزار میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ علاقائی رقابتیں نہ صرف سیاسی سطح پر بلکہ معاشی میدان میں بھی ترقی پذیر ممالک پر براہِ راست اور فیصلہ کن اثرات ڈالتی ہیں۔




