خبریںہندوستان

سعودی اور یو اے ای میں شیعوں کو نشانہ بنانے پر آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ کا حکومتِ ہند سے فوری مداخلت کا مطالبہ

نئی دہلی۔ آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری جنرل مولانا یعسوب عباس نے ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے بعض ممالک میں شیعوں کو منظم طریقے سے ہراساں کیا جا رہا ہے، انہیں امیگریشن مراحل میں روکا جا رہا ہے اور بعض کیسز میں حراست میں بھی لیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس سنگین صورتِ حال کے پیش نظر انہوں نے 29 اپریل کو نئی دہلی میں بھارت کے وزیرِ دفاع راجناتھ سنگھ سے ملاقات کی، جس میں متاثرہ افراد کے معاملات تفصیل سے اٹھائے گئے۔

مولانا یعسوب عباس کے مطابق امروہہ کے علاقے نوگاؤں سادات سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان شہری محمد راہب حسن عباس اور محمد ظفر حسن عباس، گزشتہ ایک ماہ سے حراست میں ہیں اور ان کے بارے میں کوئی مستند اطلاع دستیاب نہیں۔

مولانا یعسوب عباس نے دعویٰ کیا کہ دبئی ایئرپورٹ پر بھی ایک شیعہ جوان شبیہ عباس، کو حراست میں لیا گیا۔ ان مقامات پر ناموں کی بنیاد پر شناخت کی جا رہی ہے اور جن افراد کے ناموں کے ساتھ "سید”، "رضوی”، "زیدی”، "عابدی” یا "عباس” شامل ہوتا ہے، انہیں خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

مولانا یعسوب عباس نے کہا کہ یہ اقدامات ایک مخصوص مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف امتیازی رویے کی عکاسی کرتے ہیں، جو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم بھارتی شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری حکومتِ ہند پر عائد ہوتی ہے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب یا مسلک سے ہو۔

انہوں نے وزارتِ خارجہ سے مطالبہ کیا کہ حکومتِ ہند فوری طور پر اپنے سفارت خانوں کو فعال کرے اور سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں موجود بھارتی شہریوں کے مسائل کے حل کے لئے ٹھوس اور مؤثر اقدامات کئے جائیں۔

آخر میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بیرونِ ملک محصور یا زیرِ حراست شیعہ شہریوں کی فوری رہائی اور ان کی باحفاظت وطن واپسی کو یقینی بنایا جائے، اور اس ضمن میں سفارتی سطح پر سنجیدہ اور نتیجہ خیز کوششیں کی جائیں تاکہ مزید کسی انسانی بحران سے بچا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button