میٹا میں "مصنوعی ذہانت پر مبنی جاسوسی سافٹ ویئر” پر خدشات؛ ملازمین کی سرگرمیوں کا ریکارڈ ماڈلز کی تربیت کے لئے
میٹا میں "مصنوعی ذہانت پر مبنی جاسوسی سافٹ ویئر” پر خدشات؛ ملازمین کی سرگرمیوں کا ریکارڈ ماڈلز کی تربیت کے لئے
کام کی جگہوں پر مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال نے ایک بار پھر پیداواریت میں اضافہ اور ملازمین کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کے درمیان حد کے بارے میں سنجیدہ بحث چھیڑ دی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، کمپنی میٹا امریکہ میں اپنے ملازمین کے کمپیوٹرز پر نئے ٹریکنگ سافٹ ویئر نصب کر رہی ہے، جو ماؤس کی حرکت، کلکس، کی بورڈ ٹائپنگ اور بعض صورتوں میں اسکرین شاٹس تک ریکارڈ کر سکتا ہے۔
یہ ڈیٹا کمپنی کے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کو "ماڈل کی صلاحیت کا اقدام” (Model Capability Initiative) کا نام دیا گیا ہے، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے نظام کی انسانی رویّے کو سمجھنے کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے، خاص طور پر کمپیوٹر کے ساتھ تعامل جیسے مینو اور شارٹ کٹس کے استعمال کے حوالے سے۔
میٹا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جمع کئے گئے ڈیٹا کو ملازمین کی کارکردگی جانچنے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا بلکہ صرف مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے استعمال ہوگا۔
تاہم ٹیکنالوجی کے ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس طرح کے اقدامات کام کی نگرانی اور نجی زندگی میں مداخلت کے درمیان حد کو دھندلا سکتے ہیں، اور اس شعبہ میں مزید واضح قوانین کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔




