ترکی میں طالبان مخالفین کی وسیع نشست، افغانستان کے مستقبل اور نئے علاقائی نظم پر غور

ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں افغانستان کی صورتِ حال اور خطہ کی بدلتی ہوئی صورتحال کے جائزے کے لئے دو روزہ نشست منعقد ہوئی۔ جس میں طالبان کے مخالف سیاسی رہنما، سول سوسائٹی کے کارکنان، محققین اور علمی اداروں کے نمائندگان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اس نشست کا مقصد افغانستان کی بدلتی ہوئی علاقائی ترتیب میں اس کے مقام پر مکالمے کو فروغ دینا بتایا گیا۔
شیعہ خبر رساں ایجنسی کے مطابق، یہ پروگرام "لاپس لازولی ریسرچ اینڈ پالیسی سینٹر” کی میزبانی میں منعقد ہوا، جس کا عنوان تھا: "سیاسی تبدیلی اور علاقائی نظم؛ بدلتے ہوئے جیوپولیٹیکل منظرنامے میں افغانستان”۔
منتظمین کے مطابق، یہ نشست 24 اور 25 اپریل کو منعقد ہوئی، جس میں تعمیری تعامل کے راستوں اور سیاسی استحکام کے امکانات پر غور کیا گیا۔
سوشل میڈیا پر بعض شرکاء کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق، اس پروگرام میں پچاس سے زائد یونیورسٹی اساتذہ، سول سوسائٹی کے نمائندگان، ترک حکام اور طالبان مخالف شخصیات شریک ہوئیں، جبکہ طالبان کے کسی نمائندے کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔
اس نشست میں افغانستان اور خطہ سے متعلق متعدد اسٹریٹجک، سیاسی اور جیوپولیٹیکل امور کو مختلف زاویوں سے زیر بحث لایا گیا۔
رسمی پروگرام کے مطابق، مختلف تخصصی پینلز میں علاقائی سیاسی توازن کی نئی تشکیل، مغربی ایشیا کی تبدیلیاں، علاقائی طاقتوں کا کردار، چین کی سرمایہ کاری، روس-چین تعاون، افغانستان کی سفارتی صلاحیتوں اور اس کی سیاسی تنہائی سے نکلنے کے ممکنہ راستوں پر گفتگو کی گئی۔
"لاپس لازولی ریسرچ اینڈ پالیسی سینٹر” نے اس اجتماع کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کو اب صرف سکیورٹی کے زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ اسے علاقائی اور عالمی سیاست میں ایک فعال کردار کے طور پر سمجھنا ضروری ہے۔
مبصرین کے مطابق، یہ نشست افغانستان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے نئے مکالمے کی بنیاد رکھنے کی ایک اہم کوشش ہے۔



