22 اپریل؛ عالمی یومِ ارض
22 اپریل؛ عالمی یومِ ارض
آج جب دنیا عالمی یوم ارض منا رہی ہے، تو یہ دن محض درخت لگانے یا ماحولیاتی نعروں تک محدود نہیں رہا، بلکہ ایک گہری انسانی، دینی اور اخلاقی آزمائش کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ زمین، جو کبھی امن، توازن اور حیات کا استعارہ تھی، آج بارود، دھوئیں اور انسانی خود غرضی کے بوجھ تلے کراہ رہی ہے۔
انسان نے ترقی کے نام پر وہ راستہ اختیار کیا جس میں فطرت کے توازن کو نظر انداز کر دیا گیا۔ مگر حالیہ جنگیں، چاہے وہ مشرقِ وسطیٰ میں ہوں یا دنیا کے دیگر خطوں میں، صرف انسانوں کو ہی نہیں مار رہیں بلکہ زمین کی سانسیں بھی چھین رہی ہیں۔ بمباری سے اٹھنے والا دھواں، تباہ ہونے والے جنگلات، آلودہ پانی اور برباد زمین، یہ سب اس بات کا اعلان ہیں کہ جنگ صرف سرحدوں کو نہیں، کائناتی نظام کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
دین نے اللہ کی نعمت اور اس کی ایک مقدس امانت بتایا ہے۔ قرآن مجید انسان کو “خلیفۃ الارض” قرار دیتا ہے، لیکن آج یہی خلیفہ اپنی ذمہ داری سے غافل ہو کر زمین پر فساد کا سبب بن رہا ہے۔ قرآن کی تنبیہ “ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ” آج کے ماحولیاتی اور جنگی حالات کی عکاسی کرتی محسوس ہوتی ہے۔
اہل بیت علیہم السلام نے ہمیشہ اعتدال، عدل اور تحفظِ مخلوقات کا درس دیا۔ امیر المومنین امام علی علیہ السلام نے فرمایا: زمین کے ساتھ ایسا سلوک کرو جیسے ایک امانت دار اپنی امانت کے ساتھ کرتا ہے۔” مگر آج انسان زمین کو وسائل کے ذخیرے کے طور پر لوٹ رہا ہے، نہ کہ ایک مقدس ذمہ داری کے طور پر سنبھال رہا ہے۔
حالیہ جنگوں نے ماحولیاتی تباہی کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ تیل کے ذخائر کو آگ لگنا، زہریلی گیسوں کا اخراج، اور پانی کے ذخائر کا آلودہ ہونا — یہ سب نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی خطرہ ہیں۔ جنگی ہتھیاروں کے تجربات اور استعمال نے فضا کو زہر آلود کر دیا ہے، جس کا اثر موسمیاتی تبدیلی، عالمی حدت اور حیاتیاتی تنوع کی تباہی کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔
سماجی اعتبار سے بھی یہ ایک المیہ ہے کہ انسان اپنی بقا کے لئے زمین کو تباہ کر رہا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ زمین کی بقا ہی انسان کی بقا ہے۔ اگر جنگلات ختم ہوں گے، جانور معدوم ہوں گے، اور پانی آلودہ ہوگا تو انسانی زندگی کا تسلسل بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔
یہ وقت ہے کہ ہم اجتماعی طور پر اپنی روش بدلیں۔ دینی تعلیمات، سائنسی حقائق اور انسانی ضمیر، تینوں اس بات پر متفق ہیں کہ زمین کو بچانا اب انتخاب نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ جنگوں کے بجائے امن، استحصال کے بجائے تحفظ، اور خود غرضی کے بجائے ذمہ داری کو اپنانا ہوگا۔
اگر ہم نے اب بھی آنکھ نہ کھولی تو وہ دن دور نہیں جب زمین، جو کبھی زندگی کا گہوارہ تھی، انسانی غفلت کی داستان بن جائے گی۔




