افریقہخبریں

الفاشر کا خونی محاصرہ، شدید قحط اور سوڈان کی ریپڈ اسپورٹ فورسز کی حمایت میں امارات کے کردار کے الزامات میں اضافہ

سوڈان کے شہر الفاشر کے طویل محاصرے کے تسلسل میں انسانی بحران، قحط اور شہریوں کے قتل عام میں شدت کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

اس دوران بین الاقوامی ادارے اور مغربی میڈیا بیرونی حمایت، بالخصوص امارات، کی جانب سے ریپڈ اسپورٹ فورسز کی پشت پناہی کے الزامات میں اضافے کی خبر دے رہے ہیں۔

ہمارے ساتھی رپورٹر نے اپنی رپورٹ میں اس موضوع کا جائزہ لیا ہے، آئیے دیکھتے ہیں۔

شمالی دارفور کے شہر الفاشر گزشتہ کئی مہینوں سے سوڈان کی مسلح جھڑپوں کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔

یہاں 18 ماہ سے جاری محاصرہ اور ریپڈ اسپورٹ فورسز کے مسلسل حملوں نے ہزاروں شہریوں کی زندگی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔

مقامی صحافیوں کی زمینی رپورٹوں اور انسانی بنیادوں پر جاری ہونے والی اطلاعات کے مطابق خوراک کی شدید قلت، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور بھوک کے باعث بچوں کی اموات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی 2026 کی سوڈان سے متعلق رپورٹ کے مطابق دارفور میں حالات قحط کے قریب پہنچ چکے ہیں اور انسانی امداد کی رسائی بری طرح محدود ہو چکی ہے۔

اسی طرح خبر رساں ایجنسی "رائٹرز” نے اپنی تجزیاتی رپورٹوں میں الفاشر کے محاصرے کے تسلسل اور خوراک کی ناکہ بندی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیے جانے کا ذکر کیا ہے۔

دوسری جانب "العربیہ” اور "الجزیرہ” نے اپنی علیحدہ رپورٹوں میں بین الاقوامی سطح پر ان الزامات میں اضافے کی نشاندہی کی ہے جن میں بعض بیرونی عناصر پر ریپڈ سپورٹ فورسز کو تقویت دینے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔

ان میں متحدہ عرب امارات کا نام بھی بعض اداروں جیسے "ہیومن رائٹس واچ” اور مغربی میڈیا کی تحقیقات میں بطور ایک ایسے فریق کے لیا گیا ہے جس پر بالواسطہ حمایت کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے، تاہم ابوظہبی نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے۔

ان رپورٹس کے تسلسل میں افریقی امور کے بعض ماہرین نے بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو دارفور کا سماجی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو سکتا ہے اور ایک نئی بڑی نقل مکانی کی لہر پیدا ہو سکتی ہے۔

ان کے مطابق امدادی راستوں کی بندش اور جاری لڑائی نہ صرف انسانی بحران کو بڑھا رہی ہے بلکہ قریبی علاقوں میں عدم استحکام کے پھیلاؤ کا بھی خطرہ بڑھا رہی ہے۔

اسی طرح اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے "ورلڈ فوڈ پروگرام” نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ دارفور کے کئی علاقے "شدید غذائی بحران” کا شکار ہیں اور ہزاروں خاندان بقا کے لیے نہایت محدود امداد پر انحصار کر رہے ہیں۔

ادارہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر محاصرہ جاری رہا تو آنے والے ہفتوں میں بھوک سے ہونے والی اموات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button