اسلامی دنیاخبریں

خلیج فارس کے ممالک میں صحافیوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاری اور میڈیا سنسرشپ میں غیر معمولی اضافہ

خلیج فارس کے عرب ممالک میں سینکڑوں صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کی گرفتاری کی تازہ رپورٹوں نے اظہارِ رائے کی آزادی پر پابندیوں اور میڈیا پر بڑھتے دباؤ کے بارے میں تشویش کو نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے۔

میرے ساتھی نے اپنی رپورٹ میں اس مسئلے کا جائزہ لیا ہے، آئیے ہم ساتھ دیکھتے ہیں:

حالیہ علاقائی حالات کے بعد، خلیج فارس کے کچھ عرب ممالک میں میڈیا کا ماحول مزید سخت پابندیوں کا شکار ہو گیا ہے
اور رپورٹس میں صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کے ساتھ سخت رویے کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کچھ ویڈیوز، جن میں فوجی حملوں کو دکھایا گیا ہے، میڈیا پر مزید دباؤ ڈالنے کا بہانہ بنایا جا رہا ہے۔
صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی کے مطابق، خلیج فارس کے عرب ممالک میں سینکڑوں افراد کو ان ویڈیوز کی وجہ سے گرفتار کیا گیا ہے جن میں ایران کے حملوں کے اثرات دکھائے گئے تھے۔
اس ادارے نے ان ممالک میں سخت میڈیا سنسرشپ میں اضافے پر تنقید کی ہے اور اطلاع رسانی کی آزادی محدود ہونے پر خبردار کیا ہے۔
اسی سلسلے میں، نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایک امریکی-کویتی صحافی تقریباً ڈیڑھ ماہ سے لاپتہ ہے اور اس کی کوئی میڈیا سرگرمی سامنے نہیں آئی۔ اس رپورٹ کے مطابق اس پر غلط معلومات پھیلانے، قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے اور مواصلاتی ذرائع کے غلط استعمال جیسے الزامات لگائے گئے ہیں، جنہیں میڈیا حقوق کے ادارے عام اور مبہم الزامات قرار دیتے ہیں جو آزاد صحافیوں کو محدود کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
مزید یہ کہ ایک آزاد آن لائن خبر رساں ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، اس صحافی کی ایک شائع شدہ رپورٹ میں ایک ویڈیو شامل تھی جس میں ایک فوجی اڈے کے قریب ایک لڑاکا طیارے کے گرنے کو دکھایا گیا تھا۔ تاہم اس ملک کے امریکہ میں سفارت خانے نے اب تک اس صحافی کی صورتحال پر کسی سرکاری وضاحت کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
میڈیا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اس سے خبروں کی شفافیت میں کمی آئے گی اور عوام میں آزادانہ معلومات تک رسائی کے بارے میں خدشات بڑھیں گے۔

اسی حوالے سے کچھ بین الاقوامی اداروں کہ، جو میڈیا کی آزادی کے حامی ہیں، نے کہا ہے کہ مسلسل گرفتاریاں اور سخت پابندیاں طویل مدت میں اطلاع رسانی کے نظام پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں اور عوام کا میڈیا پر اعتماد کمزور کر سکتی ہیں۔
ان اداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں کے حقوق کا احترام کیا جائے اور انہیں آزاد اور ذمہ دارانہ طور پر کام کرنے کے لیے مناسب ماحول فراہم کیا جائے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button