یونیسف: یمن کی نصف سے زیادہ آبادی صحت کی سہولیات سے محروم

بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق یمن میں صحت کی سہولیات کی صورتحال بدستور نہایت تشویشناک ہے، اور ملک کی ایک بڑی آبادی بنیادی طبی خدمات تک رسائی سے محروم ہے۔
یہ صورتحال خاص طور پر بچوں کے لئے سنگین مسائل پیدا کر رہی ہے، جو صحت اور غذائیت کے حوالے سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
خبر رساں ایجنسی اناتولی کی رپورٹ کے مطابق، یونیسف نے کہا ہے کہ یمن کا صحت کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے، جس کے نتیجہ میں ملک کے نصف سے زیادہ باشندے بنیادی علاج معالجے کی سہولیات حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔
یونیسف نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ یمن میں لاکھوں بچے بدستور غذائی قلت (سوء تغذیہ) کا شکار ہیں، جبکہ لاکھوں کی تعداد شدید اور انتہائی خطرناک غذائی قلت کا سامنا کر رہی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی غربت اور آمد و رفت کے بڑھتے ہوئے اخراجات، لوگوں کے لئے طبی مراکز تک پہنچنے میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں وہ بیماریاں جو بآسانی قابلِ علاج ہوتی ہیں، اکثر سنگین صورت اختیار کر لیتی ہیں۔
یونیسف نے ان مشکلات کے باوجود اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنے انسانی شراکت داروں کے ساتھ مل کر یمن بھر میں صحت اور غذائیت کی خدمات کی فراہمی جاری رکھے گا۔
ادارہ نے فوری امداد، بچوں کی حفاظت، اور طبی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔




