ایرانخبریںدنیا

امریکی بحری محاصرے کے ممکنہ نتائج سے متعلق انتباہ؛ غذائی تحفظ کو خطرہ اور زرعی اجناس کی عالمی قیمتوں میں اضافہ

اقوامِ متحدہ کی ذیلی تنظیم برائے خوراک و زراعت (فاؤ) نے ایک ممکنہ بحری محاصرے کے سنگین نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی صورتحال توانائی اور کیمیائی کھادوں کی سپلائی چین میں خلل ڈال کر عالمی سطح پر خوراک اور زراعت کے شعبہ میں بحران پیدا کر سکتی ہے۔

آئیے اس موضوع پر ہمارے ساتھی رپورٹر کی رپورٹ ملاحظہ کرتے ہیں۔

ایسے وقت میں جب عالمی غذائی سپلائی چین پہلے ہی متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، بین الاقوامی ماہرین نے سمندری تجارتی راستوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے ممکنہ اثرات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

یہ خدشات خاص طور پر توانائی اور زرعی وسائل کی ترسیل کے اہم راستوں کے حوالے سے مزید شدت اختیار کر گئے ہیں، جس سے عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا امکان بڑھ گیا ہے۔

فاؤ کی رپورٹ کے مطابق، اگر امریکہ کی جانب سے اہم اسٹریٹجک سمندری راستوں، خصوصاً خطے کی اہم آبناؤں میں بحری محاصرہ کیا جاتا ہے تو عالمی سطح پر کیمیائی کھادوں اور توانائی کی سپلائی چین شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

اس تنظیم نے زور دے کر کہا کہ ایسی صورتحال زرعی پیداوار میں کمی، غذائی افراطِ زر میں اضافہ اور عالمی منڈیوں پر اضافی دباؤ کا سبب بن سکتی ہے۔

فرانس 24 کی رپورٹ کے مطابق، اس بین الاقوامی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ حساس سمندری راستوں میں بحران کے تسلسل یا شدت اختیار کرنے سے یہ مسئلہ ایک ہمہ گیر زرعی و غذائی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خصوصاً ترقی پذیر ممالک میں زرعی وسائل کی درآمد میں رکاوٹ فوری طور پر غذائی تحفظ کو متاثر کرے گی۔

مزید ایک رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ کمزور معیشت رکھنے والے ممالک اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، کیونکہ زرعی وسائل تک رسائی میں کسی بھی تاخیر سے پیداوار میں کمی، قیمتوں میں اضافہ اور عالمی اقتصادی ترقی کی رفتار سست پڑ سکتی ہے۔

مجموعی طور پر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اسٹریٹجک سمندری راستوں میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی نہ صرف توانائی کی منڈی بلکہ عالمی غذائی تحفظ کے لئے بھی سنگین خطرہ بن سکتی ہے، اور اس کے اثرات علاقائی حدود سے بڑھ کر عالمی سطح تک پھیل سکتے ہیں۔

ایسی صورتحال میں عالمی معیشت کے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر اہم سمندری راستوں میں عدم استحکام برقرار رہا تو یہ ایک منفی چکر کو جنم دے سکتا ہے، جس میں نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ، زرعی وسائل کی قیمتوں میں بڑھوتری اور بالآخر مختلف ممالک میں پیداوار کی صلاحیت میں کمی شامل ہے۔

ان ماہرین کے مطابق، بہت سے ممالک کی خوراک اور کھادوں کی درآمد پر شدید انحصار کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر پیدا ہونے والی کشیدگی براہِ راست عوام کی روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔

اسی لئے باہمی تعاون کو فروغ دینے اور غذائی سپلائی چین کے تحفظ کے لئے پائیدار نظام وضع کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button