
افغانستان سے موصول ہونے والی تازہ رپورٹس کے مطابق جہاں ایک جانب انتظامی دباؤ اور سماجی پابندیوں میں شدت آئی ہے، وہیں عوام کی معاشی صورتحال بھی تیزی سے بگڑ رہی ہے۔ بین الاقوامی اداروں نے انسانی بحران کے پھیلاؤ اور قدرتی خطرات کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ پیش رفت افغانستان میں عوامی زندگی پر کثیرالجہتی دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ دباؤ سرکاری دفاتر سے شروع ہو کر سماجی اور خاندانی زندگی تک پھیل چکا ہے۔ مختلف صوبوں میں سرکاری ملازمین کو وسیع پیمانے پر برطرفیوں اور امتیازی سلوک کا سامنا ہے، جس کے باعث ملازمت کا عدم تحفظ بڑھ گیا ہے۔
روزنامہ "8صبح” کے مطابق صوبہ ہرات میں محکمہ تحفظ ماحولیات کے ملازمین نے شدید دباؤ کے تحت ملازمت چھوڑنے پر مجبور کئے جانے کی شکایات کی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض ملازمین کو دفاتر میں داخلے سے روک دیا گیا، جبکہ کئی دیگر کو مختلف وجوہات کی بنا پر برطرف کر دیا گیا۔
اس کے علاوہ مالی وسائل کے ضیاع اور بجٹ کے غیر شفاف استعمال کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
دوسری جانب سماجی پابندیوں نے عوام کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی باختر کے مطابق متعدد شہریوں نے تفریحی مقامات اور حتیٰ کہ ریستورانوں پر عائد پابندیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کے باعث نہ صرف تفریحی مواقع محدود ہوئے ہیں بلکہ گھریلو سطح پر نفسیاتی دباؤ میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں لوگ معمول کی زندگی سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔
ادھر اقوام متحدہ کی جانب سے انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں پیش کی گئی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں معاشی حالات تشویشناک حد تک خراب ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً 2 کروڑ 19 لاکھ افراد انسانی امداد کے محتاج ہیں، جبکہ خواتین اور بچیاں سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔
مزید برآں، اقوام متحدہ کے پروگرام برائے انسانی بستی (UN-Habitat) نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان بدستور سیلاب، خشک سالی اور زلزلوں جیسے قدرتی خطرات کی زد میں ہے۔
ادارہ کے مطابق مقامی سطح پر صلاحیت بڑھانے اور خطرات سے نمٹنے کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم مجموعی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے۔
انتظامی دباؤ اور سماجی پابندیوں کے ساتھ ساتھ مقامی اور بین الاقوامی اداروں نے تعلیم اور صحت کے شعبوں پر بھی ان بحرانوں کے منفی اثرات سے آگاہ کیا ہے۔
آمو ٹی وی کے مطابق خصوصاً لڑکیوں کے لیے تعلیمی ادارے بار بار بندش اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا شکار ہیں، جبکہ کئی علاقوں میں طبی سہولیات افرادی قوت اور وسائل کی کمی کا سامنا کر رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف عوام کی جسمانی و ذہنی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہوں گے بلکہ افغانستان کی نئی نسل کا مستقبل بھی طویل المدتی مسائل سے دوچار ہو سکتا ہے۔




