
انسانی حقوق کی تنظیموں نے سعودی عرب میں شیعہ افراد کی سزائے موت اور اقلیتوں کے خلاف جاری دباؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس حوالے سے ہمارے ساتھی رپورٹر کی رپورٹ پیشِ خدمت ہے۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایک بار پھر سعودی عرب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تسلسل پر خبردار کیا ہے اور ان افراد کو سزائے موت دینے کی شدید مذمت کی ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے کم عمری میں جرم کیا تھا۔
ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ شیعہ برادری اور دیگر اقلیتوں کے خلاف دباؤ کو بھی بڑھاتے ہیں۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق، انسانی حقوق کے گروہوں نے سعودی عرب میں شیعہ افراد کی من مانی گرفتاریوں، تشدد اور سزائے موت کے احکام کی نشاندہی کی ہے۔
ان افراد پر عموماً سیکیورٹی یا “دہشت گردی” کے الزامات عائد کئے جاتے ہیں، اور بعض صورتوں میں عدالتی کارروائی شفاف طریقے سے مکمل کئے بغیر ہی سزائیں نافذ کر دی جاتی ہیں۔
انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق یہ اقدامات اقلیتوں اور سیاسی ناقدین کو خوفزدہ کرنے کا ذریعہ ہیں۔
بی بی سی فارسی کی رپورٹ کے مطابق، ایسے افراد کو بھی سزائے موت دی جا رہی ہے جو جرم کے وقت 18 سال سے کم عمر تھے، جو کہ سعودی پالیسیوں اور عملی عدالتی نظام کے درمیان واضح تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان مقدمات میں شفافیت لائی جائے، آزادانہ نظرِ ثانی کی جائے اور سزائے موت پر فوری پابندی عائد کی جائے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان پالیسیوں کے جاری رہنے سے سنگین سماجی اور سیاسی نتائج پیدا ہو سکتے ہیں اور عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد کمزور ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ حقیقی اصلاحات میں کم سن افراد کو سزائے موت دینے کا خاتمہ، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ اور منصفانہ عدالتی نظام کی ضمانت شامل ہونی چاہیے، نہ کہ صرف نمائشی اقدامات۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق عالمی دباؤ اور مسلسل نگرانی سعودی عرب میں شیعہ اور دیگر اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے اور بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے احترام کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
کچھ ذرائع نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب میں گرفتار یا سزائے موت پانے والے بہت سے شیعہ افراد پر بے بنیاد اور غیر ثابت شدہ الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔
یہ الزامات عموماً “دہشت گردی” یا “سیکیورٹی” نوعیت کے ہوتے ہیں، مگر ان کی تصدیق کے لیے آزاد شواہد پیش نہیں کیے جاتے اور عدالتی عمل اکثر غیر شفاف اور بین الاقوامی معیار کے خلاف ہوتا ہے۔
کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ من گھڑت الزامات اور غیر منصفانہ عدالتی کارروائیاں شیعہ برادری کو دبانے اور اقلیتوں میں خوف و ہراس پھیلانے کے لئے استعمال کی جاتی ہیں، جس سے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور اظہارِ رائے کی آزادی پر پابندیاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔




