ایرانخبریں

ایران کا ثقافتی ورثہ خطرے میں؛ حالیہ فوجی حملوں کے دوران محلات، مساجد اور آثارِ قدیمہ کو نقصان

ایران میں یونیسکو کی فہرست میں شامل تاریخی عمارات اور مقامات، جیسے کاخِ گلستان اور چہل ستون سے لے کر جامع مسجد اور قلعہ فلک‌الافلاک تک، حالیہ فوجی حملوں کے دوران نقصان کا شکار ہوئے ہیں، جس کے باعث بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور ممکنہ جنگی جرائم کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔

اس سلسلہ میں ہمارے ساتھی رپورٹر کی رپورٹ درج ذیل ہے۔

یونیسکو میں درج ایران کے عالمی ورثے کے مقامات اور تاریخی عمارات حالیہ فوجی حملوں کے دوران شدید نقصان سے دوچار ہوئے ہیں۔

تہران میں واقع کاخِ گلستان، جو اپنی آئینہ کاری اور تاریخی محرابوں کے لیے مشہور ہے، ارگ میدان کے قریب دھماکے کے باعث متاثر ہوا، جس سے اس کی کھڑکیاں اور اندرونی ہال کے کچھ حصے منہدم ہو گئے۔

اسی طرح اصفہان کا کاخِ چہل ستون اور جامع مسجد بھی دھماکوں سے متاثر ہوئے، جہاں فریسکو پینٹنگز میں دراڑیں، ٹائلز کے ٹوٹنے اور صفوی دور کی آئینہ کاری کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

مزید برآں، کاخِ عالی قاپو اور وادی خرم‌آباد کے قدیم آثار بھی دھماکوں کے جھٹکوں سے متاثر ہوئے ہیں۔

دویچے ویلے فارسی کے مطابق، بین الاقوامی تنظیم “بلیو شیلڈ” کے سربراہ پیٹر اسٹون نے کہا ہے کہ ثقافتی ورثے کا تحفظ انسانی شناخت اور عالمی مشترکہ اثاثہ ہے، اور جنگ کے دوران ان مقامات پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور ممکنہ طور پر جنگی جرم شمار ہوتا ہے۔

تاریخی مقامات اور آثارِ قدیمہ نہ صرف ثقافتی اہمیت رکھتے ہیں بلکہ قوموں کی شناخت اور تاریخ کے تعین میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان کی تباہی ثقافتی اور معاشی نقصان کے ساتھ ساتھ انسانی اور ثقافتی سلامتی کو بھی کمزور کرتی ہے۔

ایران کے متعلقہ اداروں نے نقصان کو کم کرنے کے لئے عمارتوں پر “بلیو شیلڈ” کے نشانات نصب کئے ہیں تاکہ متحارب فریقوں کو ان مقامات کی عالمی و ثقافتی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے، تاہم اردگرد کے علاقوں پر مسلسل حملوں کے باعث ان ورثوں کو براہِ راست خطرہ بدستور موجود ہے۔

ثقافتی کارکنوں اور بین الاقوامی تنظیموں نے فوری اقدامات اور متحارب فریقوں پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی جائے اور ثقافتی ورثے کی تباہی کو روکا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق، ان آثار کا تحفظ نہ صرف تاریخ و ثقافت بلکہ عوام کی نفسیاتی سلامتی اور اجتماعی شناخت کے لئے بھی ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button