افغانستان میں غذائی بحران 1 کروڑ 74 لاکھ سے زائد افراد کو خوراکی امداد کی ضرورت
افغانستان میں غذائی بحران 1 کروڑ 74 لاکھ سے زائد افراد کو خوراکی امداد کی ضرورت
افغانستان اس وقت ایک بے مثال غذائی بحران کا سامنا کر رہا ہے، جس کے اثرات لاکھوں شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
ایران اور پاکستان کی سرحدوں پر جاری کشیدگی اور ایران کی جانب سے غذائی اجناس کی برآمد پر پابندی نے تجارتی راستوں کو متاثر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
کابل کی خبر رساں ایجنسی "۸صبح” کے مطابق، عالمی خوراک پروگرام (WFP) کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2026 کے آغاز پر افغانستان کو بیک وقت تین شدید بحرانوں کا سامنا ہے: پاکستان-افغانستان سرحد پر بڑھتی ہوئی جھڑپیں، ایران کے ساتھ تجارتی خلل کے اثرات، اور شدید بھوک کا بحران۔
عالمی خوراک پروگرام کے مطابق اس وقت تقریباً 1 کروڑ 74 لاکھ افراد، جو کہ ملک کی ایک تہائی آبادی بنتے ہیں، فوری غذائی امداد کے محتاج ہیں، جبکہ بچوں میں غذائی قلت میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
ابتدائی طور پر اشیائے ضروریہ کی قلت سرحدی علاقوں میں دیکھی گئی، تاہم اب اس کے پورے ملک میں پھیلنے کا خدشہ ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ فوری اقدامات اور بین الاقوامی امداد کے بغیر یہ صورتحال ایک بڑے انسانی المیہ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔




