عالمی ادارہ نفیِ تشدد کی دنیا میں اسلاموفوبیا کے پھیلاؤ پر تشویش؛ نفرت انگیزی کے خلاف اقدامات اور مکالمہ کے فروغ کی اپیل

اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن کے موقع پر عالمی ادارہ نفی تشدد (فری مسلم) جو امن اور پرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لئے سرگرم ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم ہے، نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی کا مقابلہ کرنے کے لئے مزید سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔
اس موقع پر جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض ممالک میں اسلام دشمن اور امتیازی رویوں میں اضافہ ایک بڑھتا ہوا سماجی چیلنج بن چکا ہے، جو معاشروں میں امن اور مختلف برادریوں کے درمیان پرامن بقائے باہمی کے لئے خطرہ بن سکتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلاموفوبیا صرف ایک محدود فکری رجحان نہیں بلکہ کئی مقامات پر یہ مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک اور ان کے حقوق کی پامالی کا سبب بن رہا ہے۔
اس ادارے نے حکومتوں اور بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نفرت انگیزی کے خلاف مؤثر قوانین بنائیں اور انسانی وقار اور پرامن بقائے باہمی کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
بیان کے ایک اور حصہ میں دنیا کے بعض علاقوں میں بڑھتی ہوئی سیاسی اور عسکری کشیدگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
شیعہ خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سیاسی تنازعات کو بڑھانے کے لئے مذہبی شناختوں کا استعمال خطرناک نتائج پیدا کر سکتا ہے اور اس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو پہنچتا ہے۔
بیان کے اختتام پر عالمی ادارہ نفیِ تشدد نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا میں مکالمے کی ثقافت کو فروغ دیا جائے، تعلیم اور میڈیا کے کردار کو مضبوط بنایا جائے تاکہ پرامن بقائے باہمی کو تقویت ملے اور مذہبی عقائد کے نام پر تشدد کو جواز فراہم کرنے سے روکا جا سکے۔




