افریقہخبریں

علاقائی کشیدگی کے افریقہ کی معیشت پر اثرات؛ اقتصادی ترقی میں 3 فیصد تک کمی اور ایندھن کی قیمتوں میں شدید اضافہ

اقتصادی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ علاقائی کشیدگی اور آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت پر پابندیوں کے باعث افریقی ممالک میں اقتصادی ترقی کی رفتار کم ہو رہی ہے اور ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔

اس موضوع پر ہمارے ساتھی رپورٹر نے ایک رپورٹ تیار کی ہے، آئیے مل کر دیکھتے ہیں۔

افریقہ کے ایک توانائی ریگولیٹری ادارے نے اعلان کیا ہے کہ علاقائی کشیدگی کے باعث ایندھن کی فراہمی میں مسلسل خلل افریقی ممالک کی اقتصادی ترقی میں تین فیصد تک کمی کا سبب بن سکتا ہے۔

مشرقی اور جنوبی افریقہ کے علاقائی تنظیم برائے توانائی ریگولیٹرز کے سربراہ جیفری آئوری نے خبر رساں ادارے فرانس پریس کو بتایا کہ زیادہ تر افریقی ممالک اس سال اپنی متوقع مجموعی قومی پیداوار (GDP) کی شرحِ نمو سے ایک سے دو فیصد کم ترقی کا سامنا کریں گے، اور اگر یہ بحران ایک ماہ سے زیادہ جاری رہا تو یہ کمی 2 سے 3 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

جیفری آئوری نے خبردار کیا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ تقریباً ہر شعبے کو متاثر کرے گا، جن میں ٹرانسپورٹ، جہازوں کی بندرگاہوں پر لنگراندازی، سیاحت، خوراک کی قیمتیں، اندرونی نقل و حمل اور صنعتی پیداوار شامل ہیں۔

ریڈیو فردا کی رپورٹ کے مطابق افریقی ممالک کے پاس تیل کے ذخائر محدود ہیں۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے معیار کے مطابق ذخائر تقریباً 90 دن کے لئے کافی ہونے چاہئیں، لیکن بہت سے افریقی ممالک میں یہ ذخائر صرف 15 سے 25 دن تک ہی کافی ہیں۔

اس صورتحال نے افریقی براعظم میں حکومتوں اور منڈیوں کو مستقبل کی معیشت کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

ڈویچے ولے فارسی کے مطابق خطے میں کشیدگی بڑھنے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کی نگرانی سخت کر دی ہے۔

یہ اہم عالمی راستہ، جس کے ذریعہ دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اب محدود ہو چکا ہے۔

خبر رساں اداروں، خصوصاً فرانس پریس نے خبردار کیا ہے کہ اگر کشیدگی کم بھی ہو جائے تو اس اہم بحری راستے کو فوری طور پر مکمل طور پر کھولنا آسان نہیں ہوگا، اور اس کے اقتصادی اثرات افریقی ممالک پر وسیع پیمانے پر پڑ سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال افریقہ میں اقتصادی اور سماجی استحکام کو متاثر کر سکتی ہے اور بحران سے بچنے کے لیے ایندھن کے ذخائر کے بہتر انتظام اور مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کے لئے فوری اقدامات ضروری ہیں۔

ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافہ، خوراک کی قیمتوں میں مہنگائی اور فیکٹریوں کی پیداواری لاگت میں اضافہ جیسے مسائل افریقی ممالک پر شدید دباؤ ڈال رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات اور علاقائی سطح پر ہم آہنگی نہ کی گئی تو علاقائی کشیدگی کے اثرات افریقہ کی معیشت پر طویل المدت اور وسیع ہو سکتے ہیں اور لاکھوں افراد کی اقتصادی و سماجی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button