خبریںیورپ

مانچسٹر کی مسجد پر حملے کے بعد مساجد کی حفاظت کے لئے 40 ملین پاؤنڈ کی تخصیص

شہر مانچسٹر ایک سیکیورٹی واقعہ کا گواہ بنا جس نے مسلم برادری میں وسیع پیمانے پر تشویش پیدا کر دی۔

اس واقعہ میں چالیس سالہ ایک شخص کلہاڑی لے کر مرکزی مسجد مانچسٹر میں داخل ہوا اور بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کی، تاہم چند افراد کی بروقت مداخلت اور آگ بجھانے والے آلے کے استعمال سے پولیس کی آمد تک اس کی حرکات کو قابو میں رکھا گیا۔

روزنامہ دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق، مشتبہ رویہ کی اطلاع ملنے پر پولیس نے تقریباً 15 گاڑیاں مسجد کی طرف روانہ کیں اور احتیاطی تدابیر کے طور پر نمازیوں کو مسجد سے باہر نکال دیا گیا، خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

گرفتار شدہ شخص اس وقت حراست میں ہے اور اس کے ہتھیار اور ممکنہ طور پر منشیات کے استعمال سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔

برطانیہ کے وزیرِاعظم کیر اسٹارمر نے مسلم کمیونٹی کے ساتھ یکجہتی اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امدادی اور سیکیورٹی اداروں کے فوری ردعمل کو سراہا، اور اعلان کیا کہ مساجد، مدارس اور اسلامی مراکز کی حفاظت بڑھانے کے لیے 40 ملین پاؤنڈ مختص کئے جائیں گے۔

مانچسٹر پولیس نے بھی علاقہ میں اپنی سیکیورٹی موجودگی میں اضافہ کر دیا ہے۔

مرکزی مسجد مانچسٹر نے متعلقہ حکام کے ساتھ مکمل تعاون کا اظہار کرتے ہوئے نمازیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور انفرادی کے بجائے اجتماعی طور پر آمد و رفت کریں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button