
پیو ریسرچ سینٹر نے ایک بہت ہی دلچسپ اور سوچنے والی رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اگر دنیا میں ابھی جو حالات چل رہے ہیں وہ ایسے ہی چلتے رہے، تو سال 2100 تک اسلام پوری دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن جائے گا۔ اس وقت تک مسلمانوں کی تعداد تقریباً 391 کروڑ تک پہنچ جائے گی، جو واقعی ایک بہت بڑی بات ہے۔
رہی بات دوسرے مذاہب کی، تو ہندی دھرم دوسرے نمبر پر ہوگا جس کے ماننے والے تقریباً 378 کروڑ ہوں گے۔ عیسائیت تیسرے نمبر پر رہے گی اور اس کے پیروکاروں کی تعداد کریب 310 کروڑ کے آسپاس ہوگی۔ یہ مقابلہ اتنا کانٹے کا ہے کہ دیکھنے والے بھی حیران ہو جائیں گے۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر اسلامی آبادی اتنی تیزی سے کیوں بڑھ رہی ہے؟ تو اس کا جواب کچھ خاص وجوہات میں ہے۔ مسلمان گھرانوں میں بچوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے، نوجوان نسل بڑی تعداد میں موجود ہے، اور مسلمان اکثریتی ملکوں میں آبادی کا اضافہ بھی بہت تیزی سے ہو رہا ہے۔ یہ سب مل کر ایک ایسی تصویر بناتے ہیں جس میں اسلام کا مستقبل بہت روشن نظر آتا ہے۔
باقی مذاہب کی بات کریں تو جو لوگ کسی بھی مذہب کو نہیں مانتے یا خود کو ملحد کہتے ہیں، ان کی تعداد 2100 تک تقریباً 109 کروڑ ہوگی۔ دیسی اور قبائلی مذاہب کو ماننے والے کریب 22.42 کروڑ رہیں گے، اور یہودی آبادی دنیا بھر میں تقریباً 1.96 کروڑ کے قریب ہوگی۔
یہ پوری رپورٹ ایک ایسی جھلک ہے جو آنے والے وقت کی کہانی سناتی ہے، اور سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ دنیا کا یہ رنگ برنگا مذہبی منظرنامہ آگے چل کر کیسی صورت اختیار کرے گا۔




