
کابل: افغانستان کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پاکستان کے فوجی ٹھکانوں پر ہوائی حملے کر کے شدید نقصان پہنچایا ہے۔
بیان کے مطابق یہ کارروائی پاکستان کی جانب سے کابل، قندھار اور پکتیکا میں مبینہ فضائی دراندازی کے جواب میں کی گئی۔
افغان حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے فیض آباد، نوشہرہ کینٹ، جمرود اور ایبٹ آباد میں اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایک حملے میں پاکستانی آرمی چیف کے مشیر کی ہلاکت کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم اس کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے خبردار کیا ہے کہ یہ حملے “ابتدا” ہیں اور مزید کارروائیاں کی جا سکتی ہیں۔
ادھر پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ حالات کھلی جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں اور پاکستان نے جوابی کارروائی کے طور پر “آپریشن غضب للحق” شروع کر دیا ہے۔
دونوں ممالک کی جانب سے جانی نقصانات کے متضاد اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، تاہم کسی آزاد ذریعہ سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ حالیہ پیش رفت سے خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔




