
فرانس میں مسلمانوں کے لئے ایک نئے ضابطۂ اخلاق کی اشاعت کے بعد وہاں کے دینی حلقوں میں شدید غم و غصہ اور احتجاج کی لہر دوڑ گئی ہے۔
اس دستاویز کو "دین اور جمہوریہ میں مفاہمت” کے عنوان سے پیش کیا گیا ہے، تاہم ناقدین کے نزدیک یہ اقدام دین کی ایک سیکولر تعبیر مسلط کرنے اور مذہبی عقائد و عبادات میں مداخلت کی کوشش ہے۔
"لے مونڈ” کی رپورٹ کے مطابق یہ ضابطہ خود کو مغربی معاشرے میں مسلمانوں کی زندگی کے لئے رہنما اصول قرار دیتا ہے اور بعض سماجی اقدار سے ہم آہنگی پر زور دیتا ہے، جن میں کام کی جگہ پر مذہبی علامات کی پابندی میں کمی بھی شامل ہے۔
اسی طرح "آناطولی نیوز” نے خبر دی کہ اسلامی اداروں نے اس اقدام کو مذہبی آزادی اور انسانی وقار کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
فرانس میں اسلاموفوبیا کے خلاف سرگرم ادارے نے بھی خبردار کیا ہے کہ اس متن کی تیاری میں اسلام مخالف مؤقف رکھنے والی معروف شخصیات کی شمولیت نے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
دینی کارکنان کا کہنا ہے کہ فرانس کی مسلم برادری اس نوعیت کی مداخلت کو قبول نہیں کرے گی اور اپنی دینی شناخت کے تحفظ پر قائم رہے گی۔




