5 شوال، سفیر حسینی حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام کی کوفہ آمد

28 رجب سن 60 ہجری کو امام حسین علیہ السلام اپنے اہل حرم اور خواص کے ساتھ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کی جانب روانہ ہوئے، 3 یا 4 شعبان المعظم سن 60 ہجری کو مکہ مکرمہ پہنچے۔
امام عالی مقام کے آغاز قیام اور مکہ مکرمہ میں قیام پذیر ہونے کی اطلاع کوفہ پہنچی تو اہل کوفہ نے بے شمار خطوط لکھ کر آپ کو کوفہ آنے کی دعوت دی۔
امام حسین علیہ السلام نے اہل کوفہ کے اصرار اور خطوط کی کثرت کے پیش نظر اپنے چچازاد بھائی جناب مسلم بن عقیل علیہ السلام کو اپنا نمائندہ اور سفیر بنا کر کوفہ بھیجا۔
حضرت مسلم ابن عقیل علیہ السلام 15 رمضان المبارک سن 60 ہجری کو مکہ مکرمہ سے نکل کر مدینہ منورہ گئے، زیارت قبر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ اور اپنے اہل خانہ سے ملاقات کے بعد کوفہ کی جانب روانہ ہوئے اور 5 شوال سن 60 ہجری کو کوفہ پہنچے۔ کوفہ میں بنی امیہ کے شدید مخالف اور مجاہد شیعہ جناب مختار رضوان اللہ تعالی علیہ کے گھر قیام فرمایا۔
جب کوفہ کے مخلص اور انقلابی شیعوں کو امام حسین علیہ السلام کے نمائندہ اور سفیر جناب مسلم بن عقیل علیہ السلام کی آمد کی اطلاع ہوئی تو گروہ گروہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور خوش آمدید عرض کرتے۔ جب بھی کوئی گروہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تو آپ انہیں امام حسین علیہ السلام کا خط پڑھ کر سناتے ہیں، لوگ غور سے سنتے اور امام حسین علیہ السلام کے عنقریب دیدار کے شوق میں گریہ کرتے ہیں۔

حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام ان سے امام حسین علیہ السلام کی بیعت لیتے، ابتدائی دنوں میں ہی تقریبا 18000 لوگوں نے حضرت مسلم ابن عقیل علیہ السلام کے دست مبارک پر امام حسین علیہ السلام کی بیعت کی۔ سفیر حسینی نے خط لکھ کر امام حسین علیہ السلام کو کوفہ کے حالات سے آگاہ کیا کہ اہل کوفہ نے آپ کی بیعت کی ہے لہذا آپ خود کوفہ تشریف لائیں اور ان کی قیادت فرمائیں۔
دوسری جانب عبد اللہ بن مسلم حضرمی، عمارہ بن عقبہ اور عمر بن سعد ملاعین جیسے بنو امیہ کے چاپلوس اور یزید ملعون کے حامیوں نے یزید بن معاویہ کو شام خط لکھا اور اسے کوفہ کے حالات اور جناب مسلم ابن عقیل علیہ السلام کے دست مبارک پر شیعوں کی بیعت کی اطلاع دی اور مطالبہ کیا کہ چونکہ حاکم کوفہ نعمان بن بشیر سفیر حسینی کے قیام کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا ہے لہذا کسی دوسرے کو اس کی جگہ مقرر کیا جائے جو حکومت کے مخالفین سے سختی سے پیش آئے۔
یزید پلید نے اپنے حامیوں کا خط پڑھنے کے بعد سرجون مسیحی سے مشورہ کیا اور بصرہ کے گورنر عبید اللہ بن زیاد کو کوفہ کا بھی گورنر مقرر کر دیا تاکہ وہ جناب مسلم بن عقیل علیہ السلام کے قیام کو ناکام بنائے اور محبان اہل بیت علیہم السلام سے سختی سے پیش آئے۔




