اگر ڈاکٹر اس بات کا تعین کرے کہ روزہ کسی شخص کے لئے نقصان دہ ہے۔ لیکن مکلف اسے اپنے لئے نقصان دہ نہیں سمجھتا یا اس کے برعکس ہو، تو مکلف کو اپنی تشخیص پر عمل کرنا ہوگا: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی

مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی دام ظلہ کا روزانہ کا علمی جلسہ حسب دستور جمعہ 29 شعبان المعظم 1446 ہجری کو منعقد ہوا۔ جس میں گذشتہ جلسات کی طرح حاضرین کے مختلف فقہی سوالات کے جوابات دیے گئے۔
آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے "قاعدہ لا ضرر” کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: "قاعدہ لا ضرر” یعنی وہ احکام جو شارع نے معین کئے ہیں، بعض صورتوں میں واجب، بعض صورتوں میں حرام ہیں۔ لیکن اگر یہ واجب اور حرام انسان کے لئے نقصان دہ ہو تو شریعت اس وجوب اور حرمت کو ختم کر دیتی ہے۔ مثلا اگر روزہ انسان کے لئے نقصان دہ ہے یا نماز میں قیام انسان کے لئے نقصان دہ ہے تو یہ حکم واجب نہیں ہے۔ اسی طرح اگر کسی حرام کے ترک کرنے میں ضرر ہو تو اس کی حرمت بھی نہیں ہے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے فرمایا: وظیفہ پر عمل میں اہل خبرہ (ماہرین) کی رائے اور مجتہد کا فتوی امارہ ہے، لہذا اگر کسی مسئلہ میں مکلف کو یقین ہو جائے کہ اہل خبرہ کی رائے درست نہیں ہے مثلا اگر ڈاکٹر کہے کہ روزہ رکھنے میں تمہارے لئے ضرر ہے لیکن اسے یقین ہو کہ اس کے لئے ضرر نہیں ہے یا کسی موضوع میں یقین ہو جائے یا کسی مسئلہ میں قطع حاصل ہو جائے کہ مجتہد کا استناد درست نہیں ہے تو مکلف کا یقین اس کے لئے حجت ہے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے فرمایا: اگر ڈاکٹر اس بات کا تعین کرے کہ روزہ کسی شخص کے لئے نقصان دہ ہے۔ لیکن مکلف اسے اپنے لئے نقصان دہ نہیں سمجھتا یا اس کے برعکس ہو، تو مکلف کو اپنی تشخیص پر عمل کرنا ہوگا۔
واضح رہے کہ مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی دام ظلہ کا روزانہ علمی جلسات آپ کے دفتر واقع ایران، قم مقدس، خیابان چہار مردان، کوچہ 6 میں ایرانی وقت کے مطابق صبح 11:15 بجے منعقد ہوتا ہے۔
آپ ان علمی جلسہ کو براہ راست امام حسین علیہ السلام سیٹلائٹ چینل یا فروکوئنسی 12073 پر دیکھ سکتے ہیں۔




