معروف عالم دین علامہ حسن ظفر نقوی کی دھرنوں پر پولیس کی شیلنگ اورلاٹھی چارج سے حالت خراب

پارہ چنار کے مظلوموں کے لیے دھرنوں پر پولیس کا حملہ
پاکستان کے مختلف شہروں میں پارا چنار کے مظلوم عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے دیے گئے دھرنوں پر پولیس نے شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا، جس میں کئی مظاہرین زخمی ہوئے۔ کراچی میں ہونے والے پرامن دھرنے میں مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے رہنما علامہ حسن ظفر نقوی بھی شامل تھے، جن پر پولیس نے حملہ کیا، ان کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، اور انھیں اسپتال منتقل کیا گیا۔
کراچی کے نمائش چورنگی اور رضویہ میں مظاہرین پر شیلنگ کے باعث فضا دھوئیں سے بھر گئی، اور مظاہرین کو دفاع کے لیے پولیس پر پتھراؤ کرنا پڑا۔ پولیس نے مظاہرین کے کیمپ اکھاڑ دیے اور کئی افراد کو گرفتار کر لیا۔

ایم ڈبلیو ایم کے ترجمان نے پولیس کے اس رویے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیپلزپارٹی کی حکومت کی غیر جمہوری اور شرمناک حرکت ہے۔ ترجمان کے مطابق، پیپلزپارٹی کو اس اقدام کی سیاسی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی پارا چنار کے متاثرین کے لیے خاموش ہے لیکن کراچی میں پرامن عوام پر تشدد کر رہی ہے۔
علامہ حسن ظفر نقوی نے اعلان کیا کہ دھرنے مزید منظم کیے جائیں گے اور یہ احتجاج سندھ بھر میں پھیلایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک پارا چنار کے دھرنے جاری رہیں گے، کراچی میں بھی احتجاج جاری رہے گا۔

واضح رہے کہ پارا چنار میں مرکزی شاہراہ کی بندش اور مظلوم عوام کی مشکلات کے پیش نظر ایم ڈبلیو ایم نے ملک بھر میں دھرنوں کا اعلان کیا تھا، جو کراچی، لاہور، کوئٹہ، گلگت بلتستان سمیت کئی شہروں میں چھ روز سے جاری ہیں۔
یہ مظاہرے عوام کی حمایت اور مظلوموں کے حق کے لیے پرامن انداز میں کیے جا رہے تھے، لیکن پولیس کے طاقت کے استعمال سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔




