ٹیلی ویژن اور بچوں کی دینی تعلیم، ماڈرن دنیا میں چیلنجز اور حل

11 دسمبر عالمی یوم اطفال اور ٹیلی ویژن ہے۔ وہ دن جب ہم آنے والی نسل کی دینی اور اخلاقی تعلیم میں اس میڈیا کے اثر و رسوخ پر بات کر سکیں گے۔
اس دن بچوں کی شخصیت کی تشکیل میں ٹیلی ویژن کے کردار اور موجودہ دور میں اسے درپیش چیلنجز کے بارے میں تحقیق کرنا خاصا اہم ہو جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں ہمارے ساتھی رپورٹر کی رپورٹ پر توجہ دیں۔
11 دسمبر عالمی یوم اطفال و ٹیلی ویژن ہے۔ آنے والی نسل کی دینی اور اخلاقی تعلیم پر اس میڈیا کے اثرات کا جائزہ لینے کا دن۔
ٹیلی ویژن ایک مقبول اور با اثر میڈیا ہے جو بچوں کی شخصیت کی تشکیل میں ایک ناقابل تلافی کردار ادا کرتا ہے۔ بچے ٹیلی ویژن کے سامنے تیزی سے زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ اس لئے ٹیلی ویژن کا مواد ان کے رویوں اور طرز عمل کو شدت سے متاثر کرتا ہے۔
بچوں کو اخلاقی اور دینی اصول سکھانے کے لئے ٹیلی ویژن ایک موضوع پلیٹ فارم ہو سکتا ہے۔ ایسے پروگرام جو علوی اسلام اور انسانی اقدار کی تعلیمات کو مختلف عمروں کے لئے پرکشش شکلوں میں متعارف کراتے ہیں، بچوں کی دینی تعلیم کو تقویت دینے میں مدد کر سکتے ہیں۔
یہ میڈیا بچوں کو پرکشش اور موثر انداز میں اسلامی اخلاقیات، محبت، دوسروں کے لئے احترام اور ذمہ داری کے بارے میں سکھا سکتا ہے۔ لیکن اس راہ میں چیلنجز کا سامنا بھی ہے۔ کم مواد والے پروگرام، اشتہارات اور یہاں تک کہ انسانی اقدار کے خلاف مواد بھی آسانی سے بچوں کی پرورش پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
آج کی میڈیا کی دنیا میں جہاں بہت سے مواد میں اخلاقی اور دینی اقدار کا فقدان ہے، خاندانوں اور مواد کے پروڈیوسرز کو پروگراموں کا انتخاب زیادہ احتیاط سے کرنا چاہیے۔
اس لئے ضروری ہے کہ ٹیلی ویژن ایک ایسا آلہ بن جائے جو بچوں کی دینی اور اخلاقی تعلیم کو تقویت دینے کے ساتھ ساتھ تفریح اور تعلیم کے درمیان تعادل برقرار رکھے۔ٹیلی ویژن کے مواد کے انتخاب اور نگرانی میں احتیاط اگلی نسل تک دینی تعلیمات کو منتقل کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔




