دنیامقالات و مضامین

دس اکتوبر، سزائے موت کے خلاف عالمی دن؛ قرآن و فقہِ امامیہ میں حفظِ جان کا اصول اور خونریزی میں احتیاط

فقہِ امامیہ کی تعلیمات اور حرمتِ جانِ انسانی کے قرآنی مبانی کا اعادہ، سزائے موت کے خلاف عالمی دن کی مناسبت سے؛ حفظِ حیات پر اسلام کا زور، خونریزی میں احتیاط اور بحران کی انتہا میں امید کی بازآفرینی

اسلام کے قانونی نظام میں حدود و قصاص کی بنیاد انتقام جوئی پر نہیں، بلکہ بازدارندگی، خونریزی کے باب میں شدید احتیاط اور ادنیٰ سے ادنیٰ شبہے کو بھی سلبِ حیات کا راستہ بند کرنے کے لئے استعمال کرنے کے اصولوں پر رکھی گئی ہے۔

ہمارے ساتھی نے اپنی رپورٹ میں اسی موضوع کا جائزہ لیا ہے، آئیے ہم بھی ساتھ ساتھ دیکھتے ہیں:

دس اکتوبر، سزائے موت کے خلاف عالمی دن ہے۔ یہ دن سن 2003 میں دنیا بھر کی درجنوں انسانی حقوق کی تنظیموں کے ایک اتحاد کی پہل پر مقرر کیا گیا تھا۔

قرآنِ کریم کی صریح تعلیمات اور اہل بیت علیہم السلام کی متعدد روایات کی رو سے انسان کی جان اور خون کو ایک ذاتی اور غیر معمولی حرمت حاصل ہے، یہاں تک کہ ایک انسان کو زندگی بخشنا گویا تمام انسانیت کو زندگی بخشنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔

فقہِ امامیہ میں اصل "حفظِ جان” ہے، اور ہر وہ سزا جو زندگی چھین لے، ایک نہایت استثنائی امر ہے جو انتہائی سخت اور ناقابلِ تجاوز شرائط کے ساتھ مشروط ہے۔

اس فقہی نقطۂ نظر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام میں کیفری احکام کا مقصد انتقام لینا، دل کی بھڑاس نکالنا یا غصہ ٹھنڈا کرنا نہیں، بلکہ سماجی سدِّباب اور پورے معاشرے کی سلامتی کا تحفظ ہے۔

اس باب میں سب سے نمایاں فقہی قاعدوں میں سے ایک "قاعدۂ دَرء” یعنی (دَرْءُ الْحُدُودِ بِالشُّبُهَاتِ) ہے، جس کی رو سے عدالتی کارروائی میں ذرا سا شبہ یا ابہام بھی پایا جائے تو سخت سزاؤں اور سزائے موت کو روک دینا لازم ہو جاتا ہے۔

اسلامی قانون ہمیشہ عفو، درگزر اور بخشش کا موقع تلاش کرتا ہے، اور صلح و عفو کو ایسی سزاؤں کے نفاذ پر ترجیح دیتا ہے جن کی تلافی ممکن نہ ہو۔

علاوہ ازیں فقہی مبانی میں قصاص، جو ولیِ دم کا ایک ذاتی حق ہے اور جسے معاف بھی کیا جا سکتا ہے، اور ریاستی و حکومتی سطح کی سزائے موت کے درمیان ماہوی فرق موجود ہے؛ یہ امر اس بات کا غماز ہے کہ فقہ، فوجداری قوانین میں اخراجی رویّوں پر سنجیدہ نقد کرتی ہے اور اصلاح کے بعد فرد کو معاشرے میں واپس لانے پر زور دیتی ہے۔

اسی سلسلے میں، سخت ترین قانونی حالات میں بھی انسانوں کے انسانی اور روحانی پہلو کی طرف توجہ، زندگی اور سلبِ جان کی کشمکش کے نئے پہلو سامنے لاتی ہے۔

انسانی حقوق کی رپورٹوں میں ایسے واقعات کا ذکر ملتا ہے جن میں سزا یافتہ افراد نے سنگین سزاؤں کے نفاذ سے قبل کے آخری لمحات میں بھی امید، انسانی رشتے اور معنویت کی علامتوں کا اظہار کیا۔

ایسے ہی ایک واقعے میں بتایا گیا ہے کہ اصفہان میں علیرضا سپاہی کی سزائے موت کے نفاذ کی دہلیز پر، جن پر حالیہ گرفتاریوں کے سلسلے میں مقدمہ چلایا گیا تھا، ان کا عقد ان کی شریکِ حیات مہشاد کاشانی کے ساتھ ٹیلیفون پر انجام پایا، جس میں قرآنِ کریم کی ایک جلد، ایک شاخ گل اور نبات کو مہر قرار دیا گیا۔

اس طرح کے اقدامات، اور زندگی کے آخری لمحوں میں قرآنِ کریم جیسی مقدس دینی علامتوں سے وابستگی، نہایت سزاؤں کے روبرو امید، محبت اور روحانیت کے جلوہ گر ہونے کی اہمیت کا پیغام دیتے ہیں۔

فقہی و قانونی نقطۂ نظر سے، سزا یافتہ افراد تک کے لئے انسانی کرامت کے حقوق کی پاسداری اور قانونی مراحل و دفاعی دلائل کی دقیق رعایت، عدلِ علوی کے لوازمات میں سے ہے؛ وہ عدل جس کی بنیاد رأفت، خونریزی میں احتیاط اور اخراجی رویّوں سے پرہیز پر رکھی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button