حضرت سید الشہداء علیہ السلام کی زیارت حتیٰ جان جانے کے احتمال کے باوجود جائز ہے: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی
حضرت سید الشہداء علیہ السلام کی زیارت حتیٰ جان جانے کے احتمال کے باوجود جائز ہے: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی
مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کی روزانہ علمی نشست، منگل 24 ربیع الثانی 1448 ہجری کو منعقد ہوئی۔
اس نشست میں بھی سابقہ نشستوں کی طرح معظم لہ نے حاضرین کے مختلف فقہی مسائل سے متعلق سوالات کے جوابات دیے۔
آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے حضرت سید الشہداء علیہ السلام کی زیارت کے موضوع کو بیان کرتے ہوئے اور اس کے احکام کا فریضہ حج سے موازنہ کرتے ہوئے، جانی خطرات اور قتل ہو جانے کے احتمال کے باوجود زیارت کے لئے جانے کے جواز کا جائزہ لیا۔
معظم لہ نے حج اور زیارت سید الشہداء علیہ السلام کے احکام کے مابین فرق کو واضح کرتے ہوئے تصریح فرمائی: "فریضہ حج میں جانی خطرہ ہونے کی صورت میں آیت شریفہ "وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ” یعنی ‘اور اپنے ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو’ کا اطلاق ہوتا ہے اور سفر سے روکنے کا حکم دیا جاتا ہے؛ لیکن حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے سلسلے میں خطرے کے احتمال کے باوجود کوئی ممانعت وارد نہیں ہوئی۔”
انہوں نے مزید فرمایا: "فقہاء کی ایک جماعت نے بھی حضرت سید الشہداء علیہ السلام کی زیارت کے لئے جانے کو حتیٰ جانی خطرے کی صورت میں بھی منع نہیں کیا ہے، بلکہ متعدد روایات کی بنیاد پر سخت اور خطرناک حالات میں بھی زیارت امام حسین علیہ السلام کے جواز اور اس کی اہمیت کی تائید کی ہے۔”




