افغانستان کی یونیورسٹیز میں شیعہ طلبہ کے خلاف ساختی دباؤ اور امتیازی سلوک میں اضافہ
افغانستان کی یونیورسٹیز میں شیعہ طلبہ کے خلاف ساختی دباؤ اور امتیازی سلوک میں اضافہ
موصولہ رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ افغانستان کی یونیورسٹیز میں شیعہ اور غیر حنفی طلبہ کو توہین آمیز رویوں، من مانی سختیوں اور انتظامی و معاشی خدمات کے حصول میں کھلے امتیاز کا سامنا ہے۔
ان مراکز کے تعلیمی ذمہ داران، معاشی وظائف کی تصدیق کے عمل کو علمی اور انتظامی ضوابط کی بنیاد پر نہیں بلکہ ظاہری معیارات جیسے داڑھی کی لمبائی، روایتی ٹوپی کے استعمال اور حتیٰ طلبہ کی زبان کی بنیاد پر جانچتے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی "8 صبح” کے حوالے سے، یہ امتیازی اقدامات 14 نکات پر مشتمل ایک جبری عہد نامہ کی تقسیم کے ساتھ ہیں۔
یہ عہد نامہ مخصوص طرزِ لباس کی پابندی کے علاوہ ایک حساس شق رکھتا ہے جو طلبہ کو مذہبِ حنفی کی پیروی کا پابند بناتا ہے۔
اس مسئلہ نے شیعوں کے درمیان تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ وہ اس اقدام کو اپنی مذہبی شناخت میں براہِ راست مداخلت سمجھتے ہیں۔
مساوات کے منافی یہ رویے، طالبان کے تسلط میں افغانستان کے تعلیمی ماحول میں شیعہ طلبہ کے قانونی حقوق کی پامالی اور مذہبی یکسانیت کے وسیع تر پہلوؤں کی نشاندہی کرتے ہیں۔




