شیعہ مرجعیت

جو شخص اعلانیہ معصیت کا ارتکاب کرے اس کی غیبت جائز ہے، لیکن مخفی معصیتوں کی غیبت جائز نہیں ہے: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی

جو شخص اعلانیہ معصیت کا ارتکاب کرے اس کی غیبت جائز ہے، لیکن مخفی معصیتوں کی غیبت جائز نہیں ہے: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی

مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کی روزانہ علمی نشست اتوار، 22 ربیع الثانی 1448 کو منعقد ہوئی۔

اس نشست میں گزشتہ نشستوں کی طرح معظم لہ نے حاضرین کے مختلف فقہی مسائل سے متعلق سوالات کے جوابات دیئے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے غیبت کی حدود اور شرعی احکام کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں فرمایا: اگر کوئی شخص گناہ اور حرام کام کو علانیہ انجام دیتا ہو تو اس کی غیبت کرنا جائز ہے، کیونکہ شریف روایت "مَنْ أَلْقَى جِلْبَابَ الْحَيَاءِ فَلَا غِيبَةَ لَهُ” (جو شخص حیا کی چادر اتار پھینکے، اس کی کوئی غیبت نہیں) کی بنیاد پر، جس نے حیا کا پردہ چاک کر دیا ہو اس کی غیبت کی کوئی حرمت نہیں ہے۔

معظم لہ نے آشکار اور مخفی معصیت کے درمیان فرق کو بیان کرتے ہوئے تاکید فرمائی: لیکن اگر کوئی گناہ خفیہ طور پر اور چھپ کر انجام پایا ہو، جیسے کوئی شخص اپنے گھر میں چھپ کر کسی معصیت کا مرتکب ہوا ہو، تو دوسروں کے سامنے اس کی غیبت کرنا جائز نہیں اور شرعاً حرام شمار ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button