22 ربیع الاول؛ یوم شہادت شیخ خلیفہ مازندرانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ

درباری سنی مفتیوں کے فتوے سے شیعہ عالم شہید
22 ربیع الاول 736 ہجری کو شیعہ اثنا عشری عالم شیخ خلیفہ مازندرانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کو سبزوار کی مسجد میں اذانِ فجر سے قبل خفیہ طور پر پھانسی دے دی گئی۔ ان کا تعلق مازندران سے تھا۔ علم و معرفت کی جستجو میں مختلف علماء و مشائخ سے استفادہ کرنے کے بعد انہوں نے سبزوار میں سکونت اختیار کی، جہاں مسجدِ جامع میں دینی تعلیم و تبلیغ کے ساتھ اصلاحِ معاشرہ، عدل اور ظلم کے خلاف بیداری کا پیغام عام کیا۔
شیخ خلیفہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور اصلاحی سرگرمیوں سے اس دور کے حکمرانوں اور ان سے وابستہ سنی مذہبی حلقوں میں تشویش پیدا ہوئی۔ تاریخی روایات کے مطابق بعض درباری مفتیوں نے ان کے خلاف قتل کا فتویٰ دیا، جس کے بعد انہیں مسجد ہی میں پھانسی دے دی گئی۔
تاہم ان کی شہادت ان کی جدوجہد کا خاتمہ ثابت نہ ہوئی۔ ان کے پیروکاروں نے ظلم کے خلاف جدوجہد جاری رکھی اور اپنے مرشد کی نسبت سے سربداران کہلائے۔ بعد میں یہ تحریک خراسان میں مغولی اقتدار کے خلاف ایک اہم مزاحمتی تحریک بن گئی۔
شیخ خلیفہ مازندرانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی زندگی اور شہادت اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ حق کی آواز کو طاقت کے ذریعہ دبایا تو جاسکتا ہے، لیکن ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ایک عالم کی شہادت نے ایک ایسی تحریک کو جنم دیا جس نے اپنے عہد میں ظلم و استبداد کے خلاف مزاحمت کی نئی تاریخ رقم کی۔
وہ دار پر چڑھے، مگر ان کا پیغام زندہ رہا؛
وہ شہید ہوئے، مگر سربداران کی صورت میں ان کی جدوجہد آگے بڑھتی رہی۔




