ترکیخبریں

اکرم امام‌اوغلو کی نئی کتاب کی طباعت کے دوران ضبطی اور بین الاقوامی سطح پر نئی تنقید

مخالف سیاسی شخصیات کے ساتھ ترک حکومت کے قانونی و سیاسی چیلنجز

ترکی عدالت کی جانب سے زیرِ حراست استنبول کے میئر اکرم امام‌اوغلو کی نئی کتاب "قوم میری گواہ ہے” کو فوری طور پر ضبط کئے جانے کے اقدام نے ایک بار پھر ملک کے سیاسی ماحول کو کشیدہ کر دیا ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا جب عدالت میں ججوں نے انہیں اپنا دفاع پیش کرنے سے روک دیا تھا۔ اس اقدام پر ملکی اپوزیشن جماعتوں اور یورپی انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے اور عدلیہ کی آزادی اور ترکی میں سیاسی مسابقت کے مستقبل کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

ہمارے ساتھی نے اپنی رپورٹ میں اس موضوع کی تفصیلات پیش کی ہیں، آئیے دیکھتے ہیں:

ممتاز اپوزیشن رہنماؤں کو ذرائع ابلاغ اور قانونی وسائل سے محروم کرنے نے ترکی کے سیاسی تنازعات کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔

استنبول کے سابق میئر کی دفاعی کتاب کو اشاعت سے عین قبل ضبط کرنا حکمران جماعت کے سیاسی حریفوں پر بڑھتے ہوئے منظم دباؤ کی ایک اور علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مخالفین کی سماجی بنیاد کو کمزور کرنے کے مقصد سے اختیار کئے جانے والے اس سخت رویے نے، ان شخصیات کو الگ تھلگ کرنے کے بجائے، ترکی میں قانون کی حکمرانی کی صورتِ حال کے بارے میں عوامی تشویش اور بین الاقوامی مبصرین کی حساسیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

روزنامہ حریت کی رپورٹ کے مطابق، ریپبلکن پیپلز پارٹی (CHP) کے سربراہ اوزگور اوزل نے اپنی حالیہ تقریر میں اس اقدام کو بالکل بے مثال قرار دیا اور کہا کہ موجودہ عدالتی دباؤ 1980ء کی فوجی بغاوت کے دور کی پابندیوں سے بھی آگے بڑھ چکا ہے۔

اوزل نے عدالت میں امام‌اوغلو کو حقِ دفاع سے محروم کیے جانے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسی مقبول شخصیت کو عوامی منظرنامے سے ہٹانے کی کوشش عوام کو ناانصافی کے خلاف کھڑے ہونے سے نہیں روک سکتی اور ان کی سماجی مقبولیت اب بھی برقرار ہے۔

دوسری جانب خبر رساں ایجنسی اناطولیہ نے رپورٹ کیا کہ یورپی پارلیمنٹ نے بھی کتاب کی اشاعت پر پابندی اور مقدمے کی کارروائی پر ردِعمل ظاہر کیا ہے۔

ترکی کے امور کے لئے یورپی پارلیمنٹ کے رپورٹر ناچو سانچیز امور نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے استغاثہ کے فیصلے کو قانونی جواز سے عاری قرار دیا اور کہا کہ حقِ دفاع کو محدود کرنا اور کتاب کو ضبط کرنا ترکی میں آمرانہ ڈھانچوں کے فروغ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیار کو نظرانداز کیے جانے کی واضح علامت ہے۔

دوسری طرف، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امام‌اوغلو، صلاح‌الدین دمیرتاش اور عثمان کاوالا جیسی شخصیات کی قانونی حیثیت محدود کرنے اور ان کے خلاف عدالتی احکامات جاری کرنے سے ان کا سماجی اثر و رسوخ ختم نہیں ہو سکا۔

معروف سیاسی تجزیہ کار سرکان اوزجان نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ کسی سیاست دان کی قسمت اور مقبولیت کا فیصلہ صرف ووٹوں کے ذریعے ہونا چاہیے، جیل کی دیواروں کے پیچھے نہیں۔ ان کے مطابق، ان سیاسی کارکنوں کی مسلسل حراست آئندہ انتخابی مراحل کے پیشِ نظر حکومت کے لیے سیاسی چیلنجز اور اس کی قانونی ساکھ کے مسائل کو مزید پیچیدہ کر سکتی ہے۔

اسی طرح، زیرِ حراست سیاسی شخصیات کے ساتھ جبری اور سخت رویے پر اصرار انقرہ اور یورپی یونین کے درمیان سفارتی تعلقات کے لئے بھی مزید سنگین رکاوٹیں پیدا کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button