تاریخ اسلاممقالات و مضامین

14 ربیع الاول؛ قتل کعب بن اشرف یہودی

جب شاعری فتنہ بن جائے اور لفظ خنجر بن جائیں

14 ربیع الاول تاریخ کے دریچے پر کھڑی وہ تاریخ ہے جہاں ایک طرف مدینۂ رسولؐ کی پاکیزہ فضا ہے اور دوسری طرف ایک ایسا قلم اور زبان ہے جو لفظوں کو محبت کے بجائے نفرت کا لباس پہنا رہے ہیں۔ یہودی کعب بن اشرف شاعر تھا، صاحبِ ثروت تھا، صاحبِ اثر تھا؛ مگر تاریخ کی گواہی میں اس نے اپنی صلاحیتوں کو اصلاح نہیں، اشتعال کا وسیلہ بنایا۔

بدر کے بعد جب مکہ شکست کے زخم چاٹ رہا تھا، کعب کے اشعار نے ان زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے انتقام کا نمک چھڑکا۔ وہ مکہ گیا، مقتولین پر نوحہ کیا، قریش کے جذبات کو بھڑکایا اور پھر مدینہ لوٹ کر اپنے الفاظ کے ذریعہ فتنہ انگیزی جاری رکھی۔ یوں اس کا قلم محض قلم نہ رہا؛ وہ ایک ایسی چنگاری بن گیا جو قبائلی عصبیت کے خشک ایندھن کو آگ دکھا سکتی تھی۔

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خطرے کو محض ایک شخص کی مخالفت کے طور پر نہیں دیکھا؛ یہ ایک ایسے کردار کا معاملہ تھا جو معاشرے کے امن، عہد اور اجتماعی زندگی کو مسلسل نقصان پہنچا رہا تھا۔ چنانچہ کعب کا انجام اس کے مذہب کے نام پر نہیں بلکہ اس کے تاریخی کردار کے پس منظر میں سمجھنا چاہیے۔ یہودی ہونا جرم نہیں؛ ظلم، عہد شکنی اور فساد جرم کا موضوع ہیں۔

یہی وہ نکتہ ہے جہاں تاریخ آج سے ہم کلام ہوتی ہے۔

کعب کے پاس اشعار تھے، آج ہمارے پاس اسکرینیں ہیں۔
اس کے پاس نشستیں تھیں، آج ہمارے پاس سوشل میڈیا ہے۔
اس کی آواز چند قبائل تک پہنچتی تھی، آج ایک جملہ چند لمحوں میں کروڑوں دلوں تک پہنچ جاتا ہے۔

فرق صرف ذرائع کا ہے؛ لفظ کی تاثیر آج بھی وہی ہے۔

آج بھی کچھ لوگ شہرت کے لئے نفرت بوتے ہیں، اختلاف کو دشمنی بناتے ہیں، مذہب کو تعصب کا ہتھیار بناتے ہیں اور قلم کو اصلاح کے بجائے اشتعال کا ذریعہ بنا دیتے ہیں۔ ایسے میں کعب بن اشرف کا واقعہ صرف ماضی کا ایک ورق نہیں رہتا، بلکہ ہمارے اپنے عہد کا آئینہ بن جاتا ہے۔

تاریخ ہمیں یہ نہیں کہتی کہ کسی مذہب سے نفرت کرو؛ تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ فتنہ انگیزی کو پہچانو، خواہ وہ کسی بھی لباس میں سامنے آئے۔

کیونکہ فتنہ ہمیشہ تلوار لے کر نہیں آتا؛ کبھی وہ شعر کی صورت میں آتا ہے، کبھی تقریر بن کر، کبھی افواہ بن کر، اور کبھی ایک خوب صورت جملے کے پردے میں۔

14 ربیع الاول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قلم اگر ضمیر سے جدا ہوجائے تو روشنائی بھی خون کی لکیر بن سکتی ہے؛ اور زبان اگر اخلاق سے خالی ہوجائے تو الفاظ، خنجر سے زیادہ گہرا زخم دے سکتے ہیں۔

کعب بن اشرف تاریخ میں ایک شخص تھا؛ مگر اس کا سبق ہر عہد کے لئے ہے۔

لفظ کو سنبھال کر استعمال کرو، کیونکہ تاریخ میں بعض جنگیں تلوار اٹھنے سے بہت پہلے زبان سے شروع ہوجاتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button