آیۃ اللہ العظمیٰ وحید خراسانی کا تولی و تبری کی وجوب پر تاکید؛ اہل بیت علیہم السلام کے دوستوں سے محبت اور آل اللہ کے دشمنوں سے بیزاری کا اٹوٹ تعلق

آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ حسین وحید خراسانی نے ایامِ فرحۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کے موقع پر اپنے خطاب میں اس بنیادی سوال کو اٹھایا کہ "کیا تولی و تبری ہم پر واجب ہے یا مستحب؟” اور اس ضمن میں ائمہ معصومین علیہم السلام سے وارد روایات کی روشنی میں ان دونوں دینی فریضوں کے مقام و مرتبہ کو بیان فرمایا۔
معظم لہ نے اہل بیت علیہم السلام کے دشمنوں سے اظہارِ بیزاری کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: "ہمیں تولی اور تبری اختیار کرنا چاہیے۔ ہم پر واجب ہے کہ جو شخص ولیِ خدا کو غضبناک کرے، ہم اس سے بیزار ہوں۔”
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تبری، تولی کے عین مطابق اور اس کے ساتھ لازم و ملزوم ہے اور دونوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ آپ نے فرمایا: "کیا ایک دوسرے سے کم ہو سکتا ہے یا نہیں؟ جہاں تک تولی ہے، اسی نقطے کے مطابق، دلیل، عقل، کتاب اور سنت کی بنیاد پر تبری بھی ہونی چاہیے۔”
آیۃ اللہ العظمیٰ وحید خراسانی کے بیان کے مطابق، جس طرح اولیائے الٰہی سے محبت مؤمنین کی ایک یقینی ذمہ داری ہے، اسی طرح اہل بیت علیہم السلام کو اذیت پہنچانے والوں اور ان کے دشمنوں سے بیزاری اختیار کرنا بھی عقل، برہان، قرآن اور سنت کی روشنی میں ایک واجب اور ناقابلِ اغماض دینی فریضہ ہے۔




