یوم شہادتِ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی کا سالانہ خطاب

یوم شہادتِ رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کی سالانہ مجلسِ خطاب ان کے بیت میں منعقد ہوئی۔
معظملہ نے اپنے خطاب میں تعجیلِ فرج کی ضرورت، شعائرِ دینی کے احیاء، معارفِ اسلامی کی ترویج اور سیرتِ نبوی سے رہنمائی حاصل کرنے پر زور دیا۔
صفر کے آخری ایام اور رسولِ خدا حضرت ختمی مرتبت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ کے یوم شہادت کے موقع پر شہرِ مقدس قم میں مرجعِ عالیقدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کے بیت میں علماء، فضلاء، طلابِ حوزاتِ علمیہ اور عام عزادارانِ نبوی کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے اپنے خطاب کے آغاز میں 28 صفر کو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ، 7 صفر کو امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام اور ماہِ صفر کے آخری روز امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام کی شہادت پر تعزیت پیش کی۔ انہوں نے حضرت ولی عصر امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل کے لئے دعا پر زور دیتے ہوئے اسے فرج کے حصول کا واحد راستہ قرار دیا۔
معظملہ نے ماہِ محرم و صفر کے دوران تمام خادمان، مواکب اور مذہبی انجمنوں، بالخصوص زائرینِ اربعین اور حرمِ مطہر رضوی کی جانب پیدل سفر کرنے والے زائرین کی خدمت کرنے والوں کی قدردانی کی۔ انہوں نے ایامِ محسنیہ کی تعظیم کو بھی شعائرِ الٰہی میں شمار کرتے ہوئے اسے بدعت قرار دینے کے دعوے کو نادرست قرار دیا۔
انہوں نے آئندہ سال اربعین کے موقع پر زائرین کی خدمت کے لئے مزید وسیع پیمانے پر منصوبہ بندی اور بھرپور تیاری کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے قرآنِ کریم کی آیات اور متواتر روایات کی روشنی میں تاکید فرمائی کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کا انتقال طبعی موت سے نہیں ہوا بلکہ آپ کو شہید کیا گیا؛ لہٰذا آپ کے بارے میں صرف ’’وفات‘‘ کی تعبیر استعمال نہیں کرنی چاہیے۔
انہوں نے سیرتِ نبوی کو پوری انسانیت کے لئے سعادت و فلاح کا سرچشمہ قرار دیتے ہوئے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے دورِ حکومت میں خاندانی اور معاشرتی مشکلات پر قابو پانے کی مثالیں بیان کیں اور فرمایا کہ اس دور میں طلاق اور کرایہ داروں کی شرح انتہائی کم سطح پر پہنچ گئی تھی۔
معظملہ نے مزید مساجد اور حسینیہ جات کو صرف مخصوص ایام تک محدود رکھنے کے بجائے سال بھر فعال مراکز میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جہاں احکامِ شرعی، اخلاق اور اسلامی عقائد کی تعلیم دی جائے۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر شرعی مسائل سکھانے کے لئے مناسب تعداد میں اہلِ علم اور معلمین موجود نہ ہوں تو شرعی مسائل کا سیکھنا اور سکھانا واجبِ عینی بن جاتا ہے۔
خطاب کے اختتام پر آیت اللہ العظمیٰ شیرازی نے مؤمنین کو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی خصوصی نصیحت پر عمل کرنے کی تاکید فرمائی اور غصے سے پرہیز اور غضب پر قابو پانے کو مؤمنانہ زندگی کی اہم ضرورت قرار دیا۔



