یورپ

برطانیہ میں شہری شناخت کے حوالے سے نیا تنازع؛ مسلمانوں کے خلاف دائیں بازو کے رہنماؤں کے متعصبانہ بیانات

برطانیہ میں شہری شناخت کے حوالے سے نیا تنازع؛ مسلمانوں کے خلاف دائیں بازو کے رہنماؤں کے متعصبانہ بیانات

برطانیہ میں دائیں بازو کی جماعت "ریسٹور برٹین” کے اہم رہنماؤں میں شامل چارلی ڈاؤنز کی جانب سے حالیہ دنوں دیے گئے بیان، جس میں "برطانیہ کو دوبارہ حاصل کرنے” کی بات کی گئی اور اس بے بنیاد مؤقف کا اظہار کیا گیا کہ مسلمانوں کا برطانوی معاشرے سے تعلق عیسائیوں کے مقابلے میں کم ہے، نے ملک میں شدید ردِعمل اور وسیع پیمانے پر مذمت کو جنم دیا ہے۔

ان بیانات میں شہری شناخت اور برطانیہ سے تعلق کو خاندانی نسب اور عیسائی مذہب سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ناقدین کے مطابق اس طرح کی گفتگو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بعض انتہاپسند حلقوں کا بیانیہ اب صرف مہاجرت کی پالیسیوں پر تنقید تک محدود نہیں رہا، بلکہ براہِ راست غیر مسیحی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں، کے برطانوی معاشرے سے تعلق اور ان کے شہری حقوق کو نشانہ بنا رہا ہے۔

روزنامہ دی ٹیلی گراف کے مطابق، ان متعصبانہ مؤقف پر برطانیہ کی نمایاں سیاسی اور مذہبی شخصیات کی جانب سے شدید احتجاج سامنے آیا ہے۔

برطانوی ایوانِ بالا کی رکن بارونس گوہر نے لوگوں کی مذہب کی بنیاد پر درجہ بندی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی ہونے کا معیار قانون کا احترام اور معاشرے میں فعال شرکت ہے۔

اسی طرح مسلم کارکنوں اور دیگر مذہبی برادریوں کے نمائندوں نے بھی ان بیانات کو توہین آمیز اور خطرناک قرار دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، اس طرح کے مؤقف دائیں بازو کی انتہاپسند تحریکوں میں بڑھتی ہوئی شدت اور اقلیتوں کو معاشرے سے الگ تھلگ کرنے کی کوششوں کی علامت ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button