
مراکش کے دسیوں ہزار مہاجرین کی سئوتا کے سرحدی علاقے میں غیر معمولی اور اجتماعی یلغار کے بعد ایک سنگین انسانی المیہ جنم لے چکا ہے۔ درجنوں افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں جبکہ متعدد لاپتا افراد کے انجام سے متعلق تاحال کوئی اطلاع نہیں۔
اس سانحہ نے علاقہ کے طبی اور امدادی ڈھانچے کو ایک بے مثال بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ اسی دوران سکیورٹی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کی ایک نئی اجتماعی کوشش کا بھی امکان ہے۔
اس سلسلہ میں ہمارے نمائندے کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں:
سئوتا کی سرحدی گزرگاہ پر حالیہ افسوس ناک واقعے نے ایک بار پھر شمالی افریقہ میں بے گھر ہونے اور جان لیوا ہجرت کے بحران کی سنگینی کو عالمی برادری کے سامنے آشکار کر دیا ہے۔
ساحلی سرحد پر اچانک اور غیر معمولی تعداد میں مہاجرین کی آمد ایک ایسے انسانی بحران میں تبدیل ہو گئی ہے جس نے نہ صرف بے شمار خاندانوں کو ناقابلِ تلافی صدمہ پہنچایا بلکہ علاقے کے اسپتالوں اور امدادی مراکز کی گنجائش بھی ختم ہونے کے قریب پہنچ گئی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی آر ایف آئی (RFI) کے مطابق فرانزک ماہرین سئوتا میں بڑے پیمانے پر ہجرت کے بعد ملنے والی 80 لاشوں کی شناخت کی کوشش کر رہے ہیں۔
پوسٹ مارٹم رپورٹس کے مطابق بیشتر افراد کی موت ڈوبنے کے نتیجے میں ہونے والی قلبی و تنفسی بندش سے ہوئی۔ ہلاکتوں کی بڑی تعداد کے باعث ہسپانوی حکام نے اضافی عملہ طلب کرتے ہوئے ایک فوجی اسپتال میں عارضی مردہ خانہ قائم کر دیا ہے۔
لاشوں کی تدفین سے قبل ان کے ڈی این اے نمونے اور فنگر پرنٹس محفوظ کیے جا رہے ہیں تاکہ مراکش کی جانب سرحد پر انتظار کرنے والے یا اپنے پیاروں کی خبر کے منتظر اہل خانہ ان کی شناخت کر سکیں۔
دوسری جانب یورونیوز (Euronews) کے مطابق ہسپانوی بارڈر گارڈز نے خبردار کیا ہے کہ 15 اگست کو سرحد عبور کرنے کی ایک نئی اجتماعی کوشش ہو سکتی ہے۔
سوشل میڈیا کی نگرانی سے معلوم ہوا ہے کہ لاکھوں ارکان پر مشتمل گروپوں میں ایسی اپیلیں گردش کر رہی ہیں جن کے ساتھ سرحد کھولے جانے کی گمراہ کن افواہیں بھی پھیلائی جا رہی ہیں۔
سرحدی پولیس کے مطابق اگرچہ اس مہم کے اصل محرک کی شناخت ابھی نہیں ہو سکی، تاہم ان پیغامات کی اشاعت مکمل طور پر خود رو نہیں بلکہ اس کے پیچھے سوشل میڈیا پر سرگرم منظم عناصر کارفرما ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بحران کے دوران تقریباً 70 ہزار مہاجرین سئوتا پہنچے، جبکہ اس وقت 860 سے زائد بے سہارا بچے اور کم عمر افراد وہاں کے استقبالی مراکز میں موجود ہیں، جو اس انسانی المیے کے جسمانی اور نفسیاتی اثرات کی شدت اور فوری توجہ کی ضرورت کو واضح کرتے ہیں۔



