اقوامِ متحدہ کی پاکستان سے ایک بار پھر اپیل؛ افغان پناہ گزینوں کی جبری بے دخلی روکی جائے
اقوامِ متحدہ کی پاکستان سے ایک بار پھر اپیل؛ افغان پناہ گزینوں کی جبری بے دخلی روکی جائے
پاکستانی حکومت کی جانب سے غیر دستاویزی غیر ملکی شہریوں کی بڑے پیمانے پر جبری بے دخلی کی مہم نے انسانی حقوق کے اداروں میں تشویش کی نئی لہر پیدا کر دی ہے۔
اسلام آباد کی مقررہ مہلت ختم ہونے کے بعد ہزاروں افغان پناہ گزین خاندان غیر یقینی صورتِ حال اور گرفتاری کے خوف سے دوچار ہیں، جبکہ ان کی واپسی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
ان میں سے بہت سے افراد ایسے ہیں جو افغانستان کے موجودہ بحرانی حالات کے باعث اپنی جان و مال اور آزادی کے حوالے سے سنگین خطرات کا سامنا کر سکتے ہیں۔
پاکستانی روزنامہ ڈان کے مطابق، حکومت کی جانب سے دی گئی 10 جولائی کی مہلت ختم ہونے کے بعد سرحدی راستوں سے روزانہ افغانستان واپس جانے والے مہاجرین کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جو گزشتہ مہینوں کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔
ادھر پاکستان میں اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے ترجمان قیصر خان آفریدی نے پاکستان کی طویل عرصے سے پناہ گزینوں کی میزبانی کو سراہتے ہوئے کہا کہ کسی بھی پناہ گزین کو ایسے ملک واپس نہیں بھیجا جانا چاہیے جہاں اس کی جان یا آزادی خطرے میں ہو۔
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے خواتین، بچیوں اور دیگر کمزور طبقات کی سلامتی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل مکمل طور پر رضاکارانہ، محفوظ اور انسانی وقار کے احترام کے ساتھ انجام دیا جائے۔




