افغانستان

شیعہ برادری پر پابندیوں اور دباؤ میں اضافہ؛ کیا طالبان افغانستان کے شیعوں کی مذہبی شناخت کو بتدریج مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں؟

افغانستان کے شیعوں کے ساتھ طالبان حکومت کے گزشتہ پانچ برس کے طرزِ عمل کا جائزہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس برادری کی مذہبی اور ثقافتی بنیادوں کو کمزور کرنے کے لیے ایک منظم اور مربوط سلسلہ جاری ہے۔

مذہبِ جعفری کی سرکاری حیثیت ختم کرنا، آزاد دینی اور تعلیمی اداروں اور جامعات کو بند کرنا، شیعہ ذرائع ابلاغ کی بندش، اور محرم الحرام کی عزاداری جیسے مذہبی شعائر کی ادائیگی میں سنگین رکاوٹیں کھڑی کرنا، تجزیہ کاروں کو اس نتیجے پر پہنچاتا ہے کہ طالبان شیعوں کی سماجی اور مذہبی شناخت کو تنہا کرنے اور بتدریج کمزور کرنے کے لیے ایک طویل المدت حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہیں۔

ہمارے ساتھی نے اس موضوع پر ایک رپورٹ تیار کی ہے، آئیے وہ رپورٹ دیکھتے ہیں۔

طالبان، جو ابتدا میں عدل کے قیام اور تمام قومیتوں اور مذاہب کو مساوی حقوق دینے کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے، آج شیعہ برادری کے ساتھ اپنے طرزِ عمل کے حوالے سے ایک ناقابلِ قبول ریکارڈ رکھتے ہیں۔

اگرچہ شیعہ اکابرین اور علماء نے مختلف ذرائع سے بارہا اس برادری کے جائز مطالبات حکومتی حکام کے سامنے رکھے ہیں، لیکن نہ صرف انہیں کوئی مثبت جواب نہیں ملا بلکہ پابندیاں بھی روز بروز سخت ہوتی جا رہی ہیں۔

شیعیانِ افغانستان کے تجزیاتی و خبری ادارے اور بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی آوازہ (Avaza) کی رپورٹ کے مطابق، ماہرین کی آراء اور طالبان کی حکومت کے تحت افغانستان کی موجودہ صورتِ حال پر شائع ہونے والے تجزیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ شیعہ علماء کو بڑی تعداد میں سکیورٹی اداروں میں طلب کرنا، عائلی معاملات میں مداخلت کرنا، طلبہ پر دباؤ ڈالنا، اور تاسوعا و عاشورا سے قبل حوزہ و جامعہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور تمدن ٹیلی ویژن نیٹ ورک جیسے بڑے اداروں کو بند کرنا، یہ سب شیعوں کی شناخت کی بنیادوں کو کمزور کرنے کی ایک “خاموش حکمتِ عملی” کا حصہ ہے۔

طالبان کی موجودہ حکومت دینی مراکز، جو فکر و نظریے کے سرچشمے ہیں، ذرائع ابلاغ، جو معاشرے کی آواز ہیں، اور اجتماعی مذہبی رسومات، خصوصاً عاشورا، جو جذباتی اور تاریخی یکجہتی کا محور ہیں، ان تین بنیادی مراکز کو نشانہ بنا کر اس منظم برادری کو ایک منتشر، بے عمل اور اپنی تاریخی یادداشت سے محروم معاشرے میں تبدیل کرنا چاہتی ہے، تاکہ وقت گزرنے کے ساتھ وہ فراموشی کا شکار ہو جائے۔

درحقیقت، موجودہ حکومتی نظام میں مذہبی اقلیتوں کو برابر کے حقوق رکھنے والے اور درجۂ اول کے شہری نہیں سمجھا جاتا، بلکہ انہیں “غیر” عناصر اور درجۂ دوم کے شہری تصور کیا جاتا ہے، جن کے وجود اور بنیادی حقوق کو حکومت کے یک طرفہ طرزِ فکر کو مضبوط بنانے کی خاطر قربان کر دیا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتِ حال کا مقابلہ صرف وقتی ردِ عمل سے ممکن نہیں، بلکہ افغانستان میں تشیع کی مذہبی شناخت کے تحفظ کے لیے علمی مراکز، متبادل ذرائع ابلاغ اور باہمی تعاون کے نئے حلقے قائم کرنا ضروری ہیں۔

اس کے علاوہ، علاقائی امور کے ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ان امتیازی پالیسیوں کا تسلسل افغانستان سے شیعہ اہلِ علم، دینی محققین اور نوجوانوں کی بڑے پیمانے پر ہجرت کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ صورتِ حال بالآخر شیعہ آبادی والے علاقوں کو علمی اور ثقافتی اعتبار سے کمزور کر دے گی۔ اسی لیے بین الاقوامی اداروں اور اسلامی ممالک کو مذہبی تنوع کو تسلیم کرنے کے لیے طالبان پر اپنا دباؤ بڑھانا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button