شیعہ مرجعیت

آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کے بیانات کی روشنی میں عیدِ سعید غدیر کی اہمیت و فضیلت

عیدِ سعید غدیر کی اہمیت و فضیلت آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کے بیانات کی روشنی میں

مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی دام ظلہ عیدِ سعید غدیر کو امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کی ولایت کے اعلان کا نقطۂ عروج اور اسلامی مناسبتوں میں سے ایک عظیم ترین مناسبت قرار دیتے ہیں۔ آپ تاکید فرماتے ہیں کہ غدیر کا پیغام کسی خاص زمانے یا مقام تک محدود نہیں، بلکہ پوری تاریخ میں تمام انسانوں کی ہدایت کے لئے ایک عالمگیر پیغام ہے۔

ہمارے ساتھی رپورٹر نے مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی کے متعدد خطابات اور علمی نشستوں سے استفادہ کرتے ہوئے عیدِ سعید غدیر کی اہمیت اور فضیلت کے بارے میں ان کے نظریات پر ایک رپورٹ تیار کی ہے۔

عیدِ سعید غدیر خم، آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کی فکر اور بیانات میں نہایت اہم اور فیصلہ کن مقام رکھتی ہے۔

معظم لہٰ نے مختلف خطابات اور علمی نشستوں میں بارہا اس حقیقت پر زور دیا ہے کہ امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کی جانشینی کا مسئلہ صرف واقعۂ غدیر تک محدود نہیں، بلکہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بعثت کے آغاز ہی سے مختلف مواقع پر بار بار آپؑ کی ولایت اور وصایت کا اعلان فرمایا تھا۔

آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی کے بیان کے مطابق، امیرالمؤمنین علیہ السلام کی جانشینی کا پہلا رسمی اعلان بعثت کے ابتدائی برسوں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریبی رشتہ داروں کے اجتماع میں ہوا۔ 

جب آنحضرتؐ نے حاضرین سے اپنی نصرت و حمایت کی درخواست کی اور کم عمری کے باوجود حضرت علی علیہ السلام نے اس دعوت کو قبول فرمایا۔

معظم لہٰ نے تاکید فرمائی ہے کہ اس کے بعد بھی اہلِ سنت اور اہلِ تشیع دونوں کے روائی ذخائر میں درجنوں مقامات پر امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کی ولایت کی صراحت موجود ہے، جبکہ واقعۂ غدیر اس حقیقت کا آخری اور جامع ترین رسمی اعلان تھا۔

آپ غدیر کو ایک عالمی پیغام قرار دیتے ہوئے خطبۂ غدیر میں وارد ہونے والے لفظ "معاشر الناس” کی طرف اشارہ فرماتے ہیں اور بیان کرتے ہیں کہ اس خطاب کے مخاطب صرف غدیر میں موجود مسلمان نہیں تھے، بلکہ تاریخ کے تمام ادوار کے تمام انسان اس پیغام کے مخاطب ہیں۔

اسی بنا پر آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی کے نزدیک قرآن کی ثقافت، غدیر کی ثقافت اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات پوری انسانیت کا مشترکہ سرمایہ ہیں۔

معظم لہٰ کا عقیدہ ہے کہ مؤمنین کی ذمہ داری ہے کہ وہ غدیر کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کی کوشش کریں اور اس عظیم فریضہ میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتیں۔

آپ نے عیدِ غدیر کے اعمال میں محمد و آلِ محمد علیہم السلام پر کثرت سے صلوات بھیجنے کو نہایت فضیلت والا عمل قرار دیا ہے اور اس عظیم دن سے بھرپور معنوی استفادہ کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے عیدِ غدیر میں نمازِ عید کے حکم کے بارے میں فرمایا ہے کہ بعض فقہاء کے نزدیک جس طرح عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ میں نمازِ عید مشروع ہے، اسی طرح عیدِ غدیر میں بھی نمازِ عید وارد ہوئی ہے۔

البتہ آپ نے یہ بھی واضح فرمایا کہ یہ مسئلہ فقہاء کے درمیان اختلافی ہے۔

معظم لہٰ نے مزید فرمایا کہ تاریخی نقلوں کے مطابق شیخ مفید کے زمانے میں بغداد کے شیعہ عیدِ غدیر کے دن نمازِ عید کا اہتمام کیا کرتے تھے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی کی نظر میں غدیر، ولایتِ الٰہی کا کامل مظہر، رسالتِ نبوی کا تسلسل اور ظہورِ حضرت حجت عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف تک تمام انسانوں کے لئے ہدایت کا روشن چراغ ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button