اقامۂ نماز کے دو معنی ہیں؛ ایک یہ کہ انسان خود نماز پڑھے، اور دوسرا یہ کہ نماز کو معاشرے میں قائم کرے: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی
اقامۂ نماز کے دو معنی ہیں؛ ایک یہ کہ انسان خود نماز پڑھے، اور دوسرا یہ کہ نماز کو معاشرے میں قائم کرے: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی
مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی دام ظلہ کا روزانہ کا علمی جلسہ حسب دستور ہفتہ 28 ذی القعدہ 1447 ہجری کو منعقد ہوا۔ جس میں آپ نے حاضرین کے مختلف فقہی سوالات کے جوابات دیے۔
آیۃ اللہ العظمی شیرازی نے “اقامۂ نماز” کے مفہوم پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا: اقامۂ نماز کے دو معنی ہیں۔ پہلا معنی یہ ہے کہ انسان خود نماز ادا کرے، جبکہ دوسرا معنی نماز کو قائم کرنا اور اسے معاشرے میں رائج کرنا ہے۔
معظم لہ نے مزید فرمایا: نماز قائم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان ایسا ماحول اور اسباب فراہم کرے کہ لوگ نماز پڑھنے لگیں۔
آپ نے اس بات پر بھی تاکید فرمائی کہ معصومین علیہم السلام، خصوصاً امام حسین علیہ السلام کے لئے “اقامۂ نماز” کی تعبیر اسی معنی میں استعمال ہوتی ہے، کیونکہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت نے نماز کو زندہ اور قائم رکھنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔




