شیعہ مرجعیت

جنگ؛ آخری حل : رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے کبھی بھی کسی جنگ میں خود پہل نہیں کی، بلکہ ہمیشہ دفاع کے لئے جنگ کی

از تبرکات مرجع راحل آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد شیرازی رضوان اللہ تعالی علیہ

رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے کبھی بھی کسی جنگ میں خود پہل نہیں کی، بلکہ ہمیشہ دفاع کے لئے جنگ کی۔ آپ صرف اس صورت میں جنگ کرتے تھے جب درج ذیل اختیارات باقی نہ رہتے:

  1. غیر جانبداری : اگر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ اور دشمن کے درمیان غیر جانبداری کی حالت قائم ہوتی تو آپ جنگ نہیں کرتے تھے۔ مثال کے طور پر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ نے حبشہ کی حکومت کے ساتھ یہ رویہ اپنایا۔

2۔ معاہدہ : اگر غیر جانبداری ممکن نہ ہوتی تو اگلا مرحلہ معاہدہ ہوتا تھا۔ چنانچہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے مدینہ میں یہودیوں اور مشرکین کے ساتھ معاہدے کئے، اور صلح حدیبیہ کے موقع پر مکہ کے کفار کے ساتھ بھی معاہدہ کیا۔

3۔ اسلام قبول کرنا: اگر دوسرا فریق مسلمان ہو جاتا تو اس کی جان و مال محفوظ رہتی اور اس کے خلاف جنگ کرنا جائز نہ ہوتا۔ البتہ یہ بات واضح ہے کہ اسلام قبول کرنا زبردستی نہیں تھا۔

4۔ جزیہ : اس کے بعد مرحلہ جزیہ کا آتا تھا۔ جیسے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے نجران کے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔

جزیہ دو طرح کا ہوتا ہے:

پہلی قسم: وہ غیر مسلم جو اسلامی حکومت کے زیر سایہ زندگی گزارتے رہ ہیں، وہ جزیہ دیتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے مسلمانوں سے خمس اور زکوٰۃ لی جاتی ہے۔

دوسری قسم: وہ کفار جو اسلامی حکومت کے تحت نہیں ہیں لیکن حق ان پر واضح ہے اور وہ دشمنی رکھتے ہیں، ان سے بھی جزیہ لیا جا سکتا ہے۔ نجران کے عیسائیوں سے لیا جانے والا جزیہ اسی قسم کا تھا۔

حوالہ: کتاب جہان و ساختاری نو — آیت اللہ العظمی سید محمد شیرازی، ص 430

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button