افغانستانپاکستانخبریں

غزنی کے شیعہ علمائے کرام کی پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپوں کے خاتمے کی اپیل اور پرامن مذاکرات پر زور

افغانستان کے صوبہ غزنی میں شیعہ علمائے کرام کی ایک جماعت نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری فوجی جھڑپوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

شیعہ خبر رساں ایجنسی کے مطابق علمائے کرام نے زور دے کر کہا کہ کشیدگی اور تنازعات کا تسلسل نہ صرف دونوں ممالک کے مفاد میں نہیں بلکہ انسانی مفادات اور خطے کی سلامتی کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔

شیعہ علمائے کرام نے اس بات پر تاکید کی کہ اختلافات کو پرامن مذاکرات اور باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ طویل المدت بدامنی سرحدی علاقوں میں بسنے والے عوام کی زندگی کو شدید منفی طور پر متاثر کر سکتی ہے۔

اسی سلسلے میں خبر رساں ایجنسی “اطلس پریس” کی ایک تجزیاتی رپورٹ میں بھی اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یہ تنازعہ آمیز رویہ خطہ میں استحکام اور عوامی خوشحالی کو کمزور کر سکتا ہے۔

علمائے شیعہ نے مزید مطالبہ کیا کہ ایسے کسی بھی اقدام سے اجتناب کیا جائے جو کشیدگی میں اضافہ کا سبب بنے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق پاکستان اور افغانستان کی افواج کے درمیان جھڑپوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان جھڑپوں کے نتیجے میں فضائی حملے اور سرحدی درگیریاں جاری ہیں، جبکہ پاکستان اور افغانستان کی طالبان حکومت ایک دوسرے پر کشیدگی بڑھانے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔
بہت سی عالمی طاقتوں، جن میں روس اور ایران بھی شامل ہیں، نے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے اور مسائل کے حل کے لیے سفارتی راستہ اور مذاکرات کی طرف واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تنازعات کو منطق، سیاسی بصیرت اور مکالمے کے ذریعے حل کرنا ہی خطے میں پائیدار امن اور استحکام کو یقینی بنانے کا بہترین راستہ ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button