
سعودی عرب میں کام کرنے والی ایک انسانی حقوق کی تنظیم نے پھر سے یہ آواز اٹھائی ہے کہ چھ ایسے نوجوانوں کو پھانسی دی جا سکتی ہے جنہیں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ ابھی نابالغ تھے۔
یورپین سعودی آرگنائزیشن فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ ان نوجوانوں پر جو مقدمات چلائے گئے، وہ سیاسی رنگ لیے ہوئے ہیں۔ الزام یہ ہے کہ انہوں نے سن 2017 اور 2018 کے درمیان پُرامن احتجاجوں میں حصہ لیا تھا۔
تنظیم نے پانچ نوجوانوں کے نام لیے ہیں — علی الصبیعتی، حسن الفرج، یوسف المناصیف، جواد القریرس، اور علی المبیض۔ ان میں سے ایک کی عمر گرفتاری کے وقت صرف بارہ برس تھی۔ کچھ پر یہ الزام ہے کہ وہ سیکیورٹی آپریشنوں میں مارے گئے لوگوں کے جنازوں میں شریک ہوئے تھے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ ان پر دہشت گردی کے وسیع قوانین کے تحت مقدمہ چلایا گیا، اور کچھ کو صوابدیدی سزائے موت کا سامنا ہے۔
سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ نابالغوں کے معاملے میں پھانسی کی سزا کو محدود کرنے کے لیے قوانین میں تبدیلیاں لائی گئی ہیں، مگر حقوقی تنظیمیں کہتی ہیں کہ ابھی بھی کچھ استثناء موجود ہیں جن کی وجہ سے خطرہ باقی ہے۔




