صحت اور زندگیمقالات و مضامین

کیا شوگر کے مریض گُڑ کا استعمال کر سکتے ہیں؟

شوگر کے مریضوں کو اکثر میٹھی چیزیں کھانے کا دل چاہتا ہے، مگر چینی سے مکمل پرہیز کی ہدایت دی جاتی ہے کیونکہ چینی خون میں انسولین کی سطح کو بڑھا دیتی ہے۔ ایسے میں گُڑ کا استعمال میٹھے کی خواہش کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

گُڑ کے صحت پر مثبت اثرات

گُڑ میں پوٹاشیم، آئرن، کیلشیم اور دیگر معدنیات پائی جاتی ہیں جو صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔ گُڑ کو گنے کے رس سے تیار کیا جاتا ہے اور یہ چینی کی نسبت کم ریفائن ہوتا ہے۔ اس لیے شوگر کے مریض کم مقدار میں گُڑ کا استعمال کر سکتے ہیں، مگر ہائی بلڈ پریشر یا زیادہ شوگر والے مریضوں کو احتیاط کرنی چاہیے۔

کیا گُڑ میں شوگر موجود ہے؟

گُڑ میں 65 سے 85 فیصد سکروز موجود ہوتا ہے جو اس کی مٹھاس کو بڑھاتا ہے۔ اگرچہ گُڑ کے اندر معدنیات موجود ہوتی ہیں، مگر زیادہ مقدار میں استعمال سے جگر کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

بلڈ شوگر لیول پر اثرات

گُڑ کھانے سے جسم میں گلوکوز کی سطح پر فوری اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس لیے شوگر کے مریض ایک چٹکی گُڑ کھا سکتے ہیں لیکن زیادہ مقدار میں استعمال کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

گُڑ کے دیگر فوائد

سردیوں میں گُڑ اور کالے تل کے لڈو کھانے سے قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ کھانسی، دمہ اور برانکائیٹس جیسے مسائل میں بھی مفید ہے۔ نیند میں بستر پر پیشاب کرنے والے بچوں کے لیے گُڑ اور اس کی چائے فائدہ مند ہے۔

ہچکی اور نزلے کا علاج

ہچکی روکنے کے لیے گُڑ ایک مفید ٹانک ہے۔ ایک چمچ گُڑ کو خشک کر کے پیس لیں، اس میں پیسی ہوئی سونٹھ ملا کر سونگھنے سے ہچکی اور نزلے کے مسائل میں افاقہ ہوتا ہے۔

خلاصہ

گُڑ میں غذائی اجزا موجود ہیں اور یہ میٹھے کی خواہش کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، لیکن شوگر اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو اس کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button