خبریںسعودی عرب

سعودی عرب میں اسلامی اقدار کے خلاف فیصلہ پر وسیع پیمانے پر احتجاج

سعودی وزارت تعلیم کی جانب سے پرائمری اسکول سے موسیقی کو نصاب میں شامل کرنے کے فیصلے کے بعد اس ملک کی عوام میں احتجاج کی لہر دوڑ گئی ہے۔

بہت سے سعودی شہری اس اقدام کو سعودی عرب کے دینی معاشرے کی مذہبی اور اخلاقی اقدار کے خلاف سمجھتے ہیں اور یہ بھی سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ اسلامی تعلیمات سے متصادم ہے۔

یہ فیصلہ جو کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ثقافتی آزادیوں میں اضافہ کی سمت میں نئی پالیسیوں کا حصہ ہے سوشل نیٹورکس پر بڑے پیمانے پر مخالفت کا سامنا کر رہا ہے۔‌

اس حوالے سے ٹویٹر پر ہیش ٹیگ ٹرینڈ کیا گیا ہے اور 25 ہزار سے زائد احتجاجی پیغامات شائع کئے گئے۔

اس فیصلہ کے ناقدین کا کہنا ہے کہ موسیقی کی تعلیم معاشرے کے مذہبی عقائد سے متصادم ہے اور اس عمل سے آنے والی نسلوں کے ثقافتی اور مذہبی تخصص پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

کچھ لوگوں نے اس فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ بھی کیا ہے تاکہ معاشرے پر اس کے منفی اثرات کو روکا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button